حدیث نمبر: 3248
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى، قَالَ: "إِذَا اتَّهَمَ الْقَاضِي الْوَصِيَّ لَمْ يَعْزِلْهُ، وَلَكِنْ يُوَكِّلُ مَعَهُ غَيْرَهُ" وَهُوَ رَأْيُ الْأَوْزَاعِيِّ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
یحییٰ نے کہا: جب قاضی وصی کو متہم کرے تو اسے جدا نہ کرے بلکہ اس کے ساتھ کسی اور کو بھی وکیل بنا دے، اوزاعی کی بھی یہ ہی رائے ہے۔ (امام شعبی رحمہ اللہ سے بھی ایسے ہی مروی ہے)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 3247)
کوئی آدمی وصیت کرے کہ میرے بعد فلاں شخص میرے کاروبار اور بچوں کی دیکھ بھال کرے گا، اور وہ مذکور شخص بے ایمانی اور خیانت وغیرہ سے متہم ہو تو اس کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے، یا اس کے ساتھ کسی امین کو اس وصی کا شریک کار بھی مقرر کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ مذکور بالا اثر سے ثابت ہے۔
واللہ اعلم۔
کوئی آدمی وصیت کرے کہ میرے بعد فلاں شخص میرے کاروبار اور بچوں کی دیکھ بھال کرے گا، اور وہ مذکور شخص بے ایمانی اور خیانت وغیرہ سے متہم ہو تو اس کو تبدیل بھی کیا جا سکتا ہے، یا اس کے ساتھ کسی امین کو اس وصی کا شریک کار بھی مقرر کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ مذکور بالا اثر سے ثابت ہے۔
واللہ اعلم۔