حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فِي الْعَمْدِ وَالْخَطَإِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: بیوی شوہر کے قتل عمد یا قتل خطا کی دیت کی وارث ہو گی۔
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الدِّيَةُ عَلَى فَرَائِضِ اللَّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: دیت کے حق دار الله تعالیٰ کے مقرر کردہ حصص ہیں۔
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: "الدِّيَةُ سَبِيلُهَا سَبِيلُ الْمِيرَاثِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ نے کہا: دیت کا طریقہ میراث کے طریقے کی طرح ہے۔
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، وَدَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدٍ: أن عمر بن عبد العزيز كتب أن: "يورث الإخوة من الأم من الدية".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حمید اور داؤد بن ابی ہند نے کہا: عمر بن عبدالعزيز رحمہ اللہ نے لکھا کہ مادری بھائی کو دیت کا وارث بنایا جائے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: "الْعَقْلُ مِيرَاثٌ بَيْنَ وَرَثَةِ الْقَتِيلِ عَلَى كِتَابِ اللَّهِ وَفَرَائِضِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن شہاب نے کہا: دیت مقتول کے وارثین کے درمیان میراث ہے کتاب الله اور اس کے مقررہ حصص کے مطابق۔
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ بَعْضِ وَلَدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: "لَقَدْ ظَلَمَ مَنْ لَمْ يُوَرِّثْ الْإِخْوَةَ مِنْ الْأُمِّ مِنْ الدِّيَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: جس نے مادری بھائیوں کو دیت میں سے وراثت نہ دی اس نے ظلم کیا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ، أَنْبَأَنَا ابْنُ سَالِمٍ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ، وَعَلِيٍّ، وَزَيْدٍ، قَالُوا: "الدِّيَةُ تُورَثُ كَمَا يُورَثُ الْمَالُ خَطَؤُهُ وَعَمْدُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا عمر، سیدنا علی و سیدنا زید رضی اللہ عنہم نے کہا: دیت کی وراثت اسی طرح تقسیم ہو گی جس طرح مال کی وراثت (تقسیم) ہوتی ہے چاہے وہ دیت قتل خطا کی ہو چاہے قتل عمد کی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 3066 سے 3074)
ان آ ثار سے ثابت ہوا کہ مرنے والے کی دیت بھی اصحاب الفروض میں ایسے ہی تقسیم کی جائے گی جیسے مال تقسیم کیا جاتا ہے، ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے گا۔
ان آ ثار سے ثابت ہوا کہ مرنے والے کی دیت بھی اصحاب الفروض میں ایسے ہی تقسیم کی جائے گی جیسے مال تقسیم کیا جاتا ہے، ہر صاحبِ حق کو اس کا حق دیا جائے گا۔