حدیث نمبر: 2659
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَمَنِ عَسْبِ الْفَحْلِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر (جانور) کے پانی (منی) کی قیمت لینے سے منع فرمایا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2658)
نر گھوڑا، اونٹ، یا گدھا، بیل، یا بکرا وغیرہ سے ان کی مادہ کا جفتی کرانے پر اجرت لینا منع ہے۔
البتہ اگر بلا شرط مادہ کا مالک کچھ دے بطورِ سلوک کے تو اس کا لینا درست ہے، نیز نر کا عاریتاً دینا بھی مستحب ہے۔
اور علماء کی ایک جماعت نے اجرت کی بھی اجازت دی ہے تاکہ نسل منقطع نہ ہو، ان احادیث کی رو سے فقہاء اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
«(وحيدي فى شرح ابن ماجه)» ۔
نر گھوڑا، اونٹ، یا گدھا، بیل، یا بکرا وغیرہ سے ان کی مادہ کا جفتی کرانے پر اجرت لینا منع ہے۔
البتہ اگر بلا شرط مادہ کا مالک کچھ دے بطورِ سلوک کے تو اس کا لینا درست ہے، نیز نر کا عاریتاً دینا بھی مستحب ہے۔
اور علماء کی ایک جماعت نے اجرت کی بھی اجازت دی ہے تاکہ نسل منقطع نہ ہو، ان احادیث کی رو سے فقہاء اس کی حرمت کے قائل ہیں۔
«(وحيدي فى شرح ابن ماجه)» ۔
حدیث نمبر: 2660
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ الْمَهْرِيِّ، قَالَ: قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ"نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَسْبِ الْفَحْلِ، وَأَجْرِ الْمُومِسَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نر کے پانی پر اجرت لینے سے منع فرمایا اور زانیہ عورت کی اجرت (لینے) سے بھی منع فرمایا۔