حدیث نمبر: 2656
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: "نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ كَسْبِ الْإِمَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لونڈیوں کی (زنا کی) کمائی سے منع فرمایا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2655)
عہدِ جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں سے حرام کمائی حاصل کرتے اور ان سے بالجبر پیشہ کراتے تھے۔
اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اس سے روکا اور ایسی کمائی کو لقمۂ حرام قرار دیا ہے۔
قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا .....﴾ [النور: 33]» ترجمہ: ”تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیاوی فائدے کی غرض سے زنا کاری پر مجبور نہ کرو۔
“
عہدِ جاہلیت میں لوگ اپنی لونڈیوں سے حرام کمائی حاصل کرتے اور ان سے بالجبر پیشہ کراتے تھے۔
اسلام نے نہایت سختی کے ساتھ اس سے روکا اور ایسی کمائی کو لقمۂ حرام قرار دیا ہے۔
قرآن پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا .....﴾ [النور: 33]» ترجمہ: ”تمہاری جو لونڈیاں پاک دامن رہنا چاہتی ہیں انہیں دنیاوی فائدے کی غرض سے زنا کاری پر مجبور نہ کرو۔
“