کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیبر کی زمین کو بٹائی پر دینے کا بیان
حدیث نمبر: 2650
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "عَامَلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا يَخْرُجُ مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ أَوْ زَرْعٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہلِ خیبر سے کاشت اور کھجور کی آدھی (نصف حصہ) بٹائی پر معاہدہ کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2649)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے زمین کی بٹائی کا ٹھیکہ طے فرمایا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے شروع تک جاری ہی رہا، لیکن یہودیوں کی مسلسل شرارتوں کی وجہ سے انہوں نے اہلِ خیبر کو وہاں سے جلا وطن کر دیا۔
اس حدیث سے غیر مسلمین سے معاملہ کرنے، تجارت و کھیتی باڑی میں شراکت کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے یہودیوں سے زمین کی بٹائی کا ٹھیکہ طے فرمایا جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت کے شروع تک جاری ہی رہا، لیکن یہودیوں کی مسلسل شرارتوں کی وجہ سے انہوں نے اہلِ خیبر کو وہاں سے جلا وطن کر دیا۔
اس حدیث سے غیر مسلمین سے معاملہ کرنے، تجارت و کھیتی باڑی میں شراکت کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔