حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَوْفٍ: أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ: "مَنْ ظَلَمَ مِنَ الْأَرْضِ شِبْرًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی کی ایک بالشت زمین ظلم سے لے لی تو سات زمینوں کا طوق (قیامت کے دن) اس کو پہنایا جائے گا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2641)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنا بڑا بھیانک جرم ہے، اور اس کی سزا یہ ہے کہ قیامت کے دن اس کو زمین کے ساتوں طبق کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔
بعض علماء نے کہا کہ سات طبقوں تک اسے دھنسا دیا جائے گا، اور بعض نے کہا کہ سات زمینوں کی مٹی ڈھونے کا اس کو حکم دیا جائے گا، اس دن جب کہ سورج کی حدت و تمازت سے لوگ ویسے ہی پسینوں میں شرابور ہوں گے، اور یہ مصیبت جس کے گلے پڑے گی اس کا کیا حشر ہوگا۔
اس حدیث سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ زمین کے بھی آسمان کی طرح سات طبق ہیں، جیسا کہ قرآن پاک میں بھی ہے: «﴿اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ .....﴾ [الطلاق: 12]» یعنی ”الله تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور اسی کی طرح سے سات زمین بھی پیدا فرمائیں۔
“ جو لوگ سات زمینوں کا انکار کرتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہفت اقلیم سات بر اعظم ہیں وہ غلطی پر ہیں، اور قرآن و حدیث کے خلاف وہ ظن و تخمین لگاتے ہیں۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی کی زمین پر غاصبانہ قبضہ کرنا بڑا بھیانک جرم ہے، اور اس کی سزا یہ ہے کہ قیامت کے دن اس کو زمین کے ساتوں طبق کا طوق اس کی گردن میں ڈالا جائے گا۔
بعض علماء نے کہا کہ سات طبقوں تک اسے دھنسا دیا جائے گا، اور بعض نے کہا کہ سات زمینوں کی مٹی ڈھونے کا اس کو حکم دیا جائے گا، اس دن جب کہ سورج کی حدت و تمازت سے لوگ ویسے ہی پسینوں میں شرابور ہوں گے، اور یہ مصیبت جس کے گلے پڑے گی اس کا کیا حشر ہوگا۔
اس حدیث سے علماء نے استدلال کیا ہے کہ زمین کے بھی آسمان کی طرح سات طبق ہیں، جیسا کہ قرآن پاک میں بھی ہے: «﴿اللّٰهُ الَّذِي خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ وَمِنَ الْأَرْضِ مِثْلَهُنَّ .....﴾ [الطلاق: 12]» یعنی ”الله تعالیٰ نے سات آسمان بنائے اور اسی کی طرح سے سات زمین بھی پیدا فرمائیں۔
“ جو لوگ سات زمینوں کا انکار کرتے ہیں، یا یہ کہتے ہیں کہ اس سے مراد ہفت اقلیم سات بر اعظم ہیں وہ غلطی پر ہیں، اور قرآن و حدیث کے خلاف وہ ظن و تخمین لگاتے ہیں۔