حدیث نمبر: 2637
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الشِّخِّيرِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنِ الْجَارُودِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
جارود نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا: ”مسلمان کی گمشدہ چیز (کو لینا) آگ کی جلن ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2636)
یعنی کوئی اگر کسی مسلمان کی گم شدہ چیز بھی لے لے تو وہ جہنم کی آگ لینے کے مرادف ہے۔
واللہ اعلم۔
یعنی کوئی اگر کسی مسلمان کی گم شدہ چیز بھی لے لے تو وہ جہنم کی آگ لینے کے مرادف ہے۔
واللہ اعلم۔
حدیث نمبر: 2638
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْجَرْمِيِّ، عَنِ الْجَارُودِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ، لَا تَقْرَبَنَّهَا". قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، اللُّقَطَةُ نَجِدُهَا ؟ . قَالَ: "أَنْشِدْهَا، وَلَا تَكْتُمْ، وَلَا تُغَيِّبْ، فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا، فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
جارود نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلم کی گم شدہ چیز آگ کی جلن ہے، مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی جلن ہے، مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کی جلن ہے، تم اس کے قریب نہ جانا۔“ جارود نے کہا: ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں گری پڑی چیز ملے تو؟ فرمایا: ”اس کا اعلان کرو، چھپاؤ نہیں، نہ اسے غائب کرو، اگر اس کا مالک آجائے تو اس کے حوالے کر دو ورنہ پھر یہ اللہ کا مال ہے جس کو وہ چاہتا ہے دیدیتا ہے۔“ (یعنی کوئی لینے نہ آئے تو تم لے سکتے ہو اللہ نے تمہیں دیا ہے)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2637)
اس حدیث میں بھی مسلمان کی گم شدہ کوئی بھی چیز لینے کی ممانعت ثابت ہوئی، اور گری پڑی چیز کو بھی اس کے مالک تک پہنچانے کے لئے اٹھا سکتے ہیں۔
اس حدیث میں بھی مسلمان کی گم شدہ کوئی بھی چیز لینے کی ممانعت ثابت ہوئی، اور گری پڑی چیز کو بھی اس کے مالک تک پہنچانے کے لئے اٹھا سکتے ہیں۔