حدیث نمبر: 2632
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "عَلَى الْيَدِ مَا أَخَذَتْ حَتَّى تُؤَدِّيَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاتھ پر واجب ہے کہ جو لے اسے واپس کر دے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2631)
یہ حدیث گرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معنی صحیح ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [النساء: ۵8]» ”الله تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ امانات کو ان کے مالک کے سپرد کرو۔
“ یعنی جب کسی سے امانت لو تو اسے ہو بہو ویسے ہی واپس کرو۔
امانت میں خیانت کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
اس باب سے مراد غالباً مؤلف رحمہ اللہ کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ» کہ عاریتاً لی ہوئی چیز پھیر دی جائے۔
اس کو [ابن ماجه 2398] وغیرہ نے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔
یہ حدیث گرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن معنی صحیح ہے۔
الله تعالیٰ کا فرمان ہے: «﴿إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا﴾ [النساء: ۵8]» ”الله تعالیٰ حکم فرماتا ہے کہ امانات کو ان کے مالک کے سپرد کرو۔
“ یعنی جب کسی سے امانت لو تو اسے ہو بہو ویسے ہی واپس کرو۔
امانت میں خیانت کبیرہ گناہ ہے جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
اس باب سے مراد غالباً مؤلف رحمہ اللہ کا اشارہ اس حدیث کی طرف ہے: «الْعَارِيَةُ مُؤَدَّاةٌ» کہ عاریتاً لی ہوئی چیز پھیر دی جائے۔
اس کو [ابن ماجه 2398] وغیرہ نے روایت کیا ہے لیکن اس میں ایک راوی متکلم فیہ ہے۔