کتب حدیثسنن دارميابوابباب: گروی رکھنے کا بیان
حدیث نمبر: 2618
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: "تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّ دِرْعَهُ لَمَرْهُونَةٌ عِنْدَ رَجُلٍ مِنَ الْيَهُودِ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب وفات پائی (اس وقت) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ ایک یہودی کے پاس 30 صاع جو کے بدلے گروی رکھی ہوئی تھی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2617)
رہن کہتے ہیں گروی رکھنے کو، یعنی کوئی چیز کسی کے پاس رکھ کر اس سے قرض لینا اور قرض ادا کرنے کے بعد اپنی چیز واپس لے لینا، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جَو خریدی اور اس کے عوض اپنی زرہ رہن رکھ دی، جیسا کہ [بخاري 2200] اور [مسلم 1603] میں ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گروی رکھنا جائز ہے، اور ادھار غلہ لینا بھی جائز ہوا، اور یہ بھی معلوم ہوا کہ اس قسم کے دنیاوی معاملات غیر مسلموں سے بھی کئے جا سکتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک یہودی سے غلہ ادھار لیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اچھی طرح معلوم تھا کہ ان کے یہاں ہر قسم کا کاروبار ہوتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب البيوع / حدیث: 2618
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2624]» ¤ اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ترمذي 1214] ، [نسائي 4665] ، [ابن ماجه 3239] ، [أحمد 236/1] ، [أبويعلی 2695]