حدیث نمبر: 2579
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نَافِعِ بْنِ نَضْلَةَ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ مَرَّتَيْنِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا معمر بن عبداللہ بن نافع بن نضلہ عدوی رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومرتبہ فرمایا: ”خطاء کار کے سوا ذخیرہ اندوزی کوئی نہیں کرتا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2578)
«لَا يَحْتَكَر:» احتکار سے ماخوذ ہے، یعنی غلے کو روک لینا، فروخت نہ کرنا، اس انتظار میں کہ بھاؤ چڑھے تب بیچیں گے اور عوام کو اس کی شدید ضرورت ہو، فروخت کرنے والا اس سے مستغنیٰ ہو، اور «خَاطِءٌ» سے مراد نافرمان، گناہ گار، خطار کار ہے۔
اس حدیث میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے، وہ اس طرح سے کہ ایک آدمی کوئی چیز خرید کر لے کہ جب نرخ بڑھیں گے تو اس وقت اسے فروخت کروں گا، حالانکہ عوام میں اس کی بہت مانگ ہو۔
حدیث کے الفاظ عام ہیں مگر جمہور نے اس سے مراد صرف انسانوں اور حیوانوں کے خورد و نوش کی چیزیں لی ہیں، دوسری اشیاء اس نہی سے مستثنیٰ ہیں۔
احتکار ایسی شکل میں بلاشبہ حرام ہے کہ روز مرہ کی استعمال کی قلت پیدا ہو جائے، اور جن کے پاس یہ چیزیں ہوں وہ انہیں چھپا کر رکھ لیں، احتکار تجارت پیشہ حضرات کے لئے حرام ہے۔
زمیندار اپنی پیداوار کو روک لے تو اس کے لئے گنجائش ہے مگر جب غلے کی قلت شدت اختیار کر جائے تو پھر اس کے لئے بھی غلہ کو روک لینا جائز نہ ہوگا۔
«لَا يَحْتَكَر:» احتکار سے ماخوذ ہے، یعنی غلے کو روک لینا، فروخت نہ کرنا، اس انتظار میں کہ بھاؤ چڑھے تب بیچیں گے اور عوام کو اس کی شدید ضرورت ہو، فروخت کرنے والا اس سے مستغنیٰ ہو، اور «خَاطِءٌ» سے مراد نافرمان، گناہ گار، خطار کار ہے۔
اس حدیث میں ذخیرہ اندوزی کی ممانعت ہے، وہ اس طرح سے کہ ایک آدمی کوئی چیز خرید کر لے کہ جب نرخ بڑھیں گے تو اس وقت اسے فروخت کروں گا، حالانکہ عوام میں اس کی بہت مانگ ہو۔
حدیث کے الفاظ عام ہیں مگر جمہور نے اس سے مراد صرف انسانوں اور حیوانوں کے خورد و نوش کی چیزیں لی ہیں، دوسری اشیاء اس نہی سے مستثنیٰ ہیں۔
احتکار ایسی شکل میں بلاشبہ حرام ہے کہ روز مرہ کی استعمال کی قلت پیدا ہو جائے، اور جن کے پاس یہ چیزیں ہوں وہ انہیں چھپا کر رکھ لیں، احتکار تجارت پیشہ حضرات کے لئے حرام ہے۔
زمیندار اپنی پیداوار کو روک لے تو اس کے لئے گنجائش ہے مگر جب غلے کی قلت شدت اختیار کر جائے تو پھر اس کے لئے بھی غلہ کو روک لینا جائز نہ ہوگا۔
حدیث نمبر: 2580
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ سَالِمٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "الْجَالِبُ مَرْزُوقٌ، وَالْمُحْتَكِرُ مَلْعُونٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باہر سے مال لانے والا روزی دیا جائے گا اور ذخیرہ کر کے رکھنے والے پر لعنت کی جائے گی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2579)
ذخیرہ اندوزی کرنے کی ممانعت اور بھی دیگر کئی احادیثِ صحیحہ میں آئی ہے، اور مذکورہ بالا حدیث میں احتکار کرنے والے پرلعنت ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: جو احتکار حرام ہے وہ غلہ و اناج کا احتکار ہے ان شروط کے ساتھ جو اوپر ذکر کی گئی ہیں، یعنی غلہ کی قلت ہو یا ملتا ہی نہ ہو اور لوگوں کو اس کی ضرورت ہو، اور پھر بند کر کے رکھے کہ اور گرانی ہو جائے گی تب بیچیں گے تو یہ حرام ہے، کیونکہ اپنے ذرا سے فائدے کے لئے لوگوں کو تکلیف و ایذا دیتا ہے، اور لوگوں کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ ہے۔
ذخیرہ اندوزی کرنے کی ممانعت اور بھی دیگر کئی احادیثِ صحیحہ میں آئی ہے، اور مذکورہ بالا حدیث میں احتکار کرنے والے پرلعنت ہے۔
امام نووی رحمہ اللہ نے کہا: جو احتکار حرام ہے وہ غلہ و اناج کا احتکار ہے ان شروط کے ساتھ جو اوپر ذکر کی گئی ہیں، یعنی غلہ کی قلت ہو یا ملتا ہی نہ ہو اور لوگوں کو اس کی ضرورت ہو، اور پھر بند کر کے رکھے کہ اور گرانی ہو جائے گی تب بیچیں گے تو یہ حرام ہے، کیونکہ اپنے ذرا سے فائدے کے لئے لوگوں کو تکلیف و ایذا دیتا ہے، اور لوگوں کو تکلیف دینا بہت بڑا گناہ ہے۔