حدیث نمبر: 2571
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ هُزَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آكِلَ الرِّبَا وَمُؤْكِلَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کھانے والے اور کھلانے والے پر لعنت کی ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2570)
ربا اردو زبان میں سود کو کہتے ہیں، یعنی اصل مال سے زیادہ لینا جو معروف و مشہور ہے، اور «آكِلَ الرِّبَا» میں سود لینے اور دینے والا دونوں شامل ہیں۔
یہاں «آكِلَ الرِّبَا» سے مراد سودخور اور «مُؤْكِلَهُ» سے مراد سود دینے والا ہے۔
اس حدیث سے سود لینے اور دینے کی حرمت ثابت ہوئی جس پر تمام علماء کا اجماع ہے، اور یہ نصِ قرآنی سے حرام ہے جس کا ذکر پچھلی حدیث کی شرح میں کیا جا چکا ہے۔
یہ ایسی لعنت ہے جس میں دنیا بھر کے بہت سے لوگ گرفتار اور مبتلا ہیں، اس لعنت سے بچنے اور چھٹکارا پانے کے لئے ہر مسلمان کو کوشش اور دعا کرنی چاہے، الله تعالیٰ ہم کو اس سے محفوظ رکھے، آمین۔
ربا اردو زبان میں سود کو کہتے ہیں، یعنی اصل مال سے زیادہ لینا جو معروف و مشہور ہے، اور «آكِلَ الرِّبَا» میں سود لینے اور دینے والا دونوں شامل ہیں۔
یہاں «آكِلَ الرِّبَا» سے مراد سودخور اور «مُؤْكِلَهُ» سے مراد سود دینے والا ہے۔
اس حدیث سے سود لینے اور دینے کی حرمت ثابت ہوئی جس پر تمام علماء کا اجماع ہے، اور یہ نصِ قرآنی سے حرام ہے جس کا ذکر پچھلی حدیث کی شرح میں کیا جا چکا ہے۔
یہ ایسی لعنت ہے جس میں دنیا بھر کے بہت سے لوگ گرفتار اور مبتلا ہیں، اس لعنت سے بچنے اور چھٹکارا پانے کے لئے ہر مسلمان کو کوشش اور دعا کرنی چاہے، الله تعالیٰ ہم کو اس سے محفوظ رکھے، آمین۔