حدیث نمبر: 2565
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتَوَائِيُّ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ، قَالَ: كُنْتُ تَحْتَ نَاقَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ، يَقُولُ: "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ، أَوِ انْتَمَى إِلَى غَيْرِ مَوَالِيهِ، رَغْبَةً عَنْهُمْ، فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ، وَالْمَلَائِكَةِ، وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، لَا يُقْبَلُ مِنْهُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کے پاس تھا، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہوئے سنا: ”جو شخص کراہت کی وجہ سے اپنے باپ کے سوا کسی اور کا بیٹا بنے یا اپنے مالک کے سوا دوسرے کا غلام بنے تو اس پر لعنت ہے اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی، نہ اسکا نفل قبول ہوگا نہ فرض۔“
حدیث نمبر: 2566
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ سَعْدٍ وَأَبِي بَكْرَةَ أَنَّهُمَا حَدَّثَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "مَنِ ادَّعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سعد اور سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہما نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اپنے باپ کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کا دعویٰ کرے، جنت اس پر حرام ہے۔“ (یعنی جو شخص غیر کو اپنا باپ بتائے وہ جنت میں داخل نہ ہوگا)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2564 سے 2566)
اپنے حقیقی باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے فرد کی طرف نسبت کرنا اور اسے اپنا باپ بنانا انتہائی گھناؤنا امر ہے، اور یہ بہت بڑا گناہ ہے، ایسے شخص پر جنّت حرام ہے، اور الله اور فرشتوں کی اس پر لعنت ہے، اور اس کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہ ہوگا۔
اپنے حقیقی باپ کو چھوڑ کر کسی دوسرے فرد کی طرف نسبت کرنا اور اسے اپنا باپ بنانا انتہائی گھناؤنا امر ہے، اور یہ بہت بڑا گناہ ہے، ایسے شخص پر جنّت حرام ہے، اور الله اور فرشتوں کی اس پر لعنت ہے، اور اس کا کوئی عمل اللہ کے نزدیک قابلِ قبول نہ ہوگا۔