کتب حدیثسنن دارميابوابباب: حکومت قریش میں رہے گی
حدیث نمبر: 2557
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ شُعَيْبِ بْنِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ يُحَدِّثُ عَنْ مُعَاوِيَةَ أَنَّهُ قَالَ وَهُوَ عِنْدَهُ فِي وَفْدٍ مِنْ قُرَيْشٍ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ فِي قُرَيْشٍ، لَا يُعَادِيهِمْ أَحَدٌ إِلَّا كَبَّهُ اللَّهُ عَلَى وَجْهِهِ، مَا أَقَامُوا الدِّينَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام زہری رحمہ اللہ نے کہا: محمد بن جبیر بن مطعم حدیث بیان کرتے تھے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت محمد قریش کے وفد میں ان کے پاس تھے۔ انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ: ”یہ خلافت قریش میں رہے گی اور جو بھی ان سے دشمنی کرے گا، الله تعالیٰ اس کو سر نگوں اوندھا کر دے گا جب تک وہ (قریش) دین پر قائم رہیں گے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2556)
قریش کے لوگ جب دین اور شریعت کو چھوڑ دیں گے تو ان میں سے خلافت و حکومت جاتی رہے گی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جیسی پیشین گوئی کی تھی ویسا ہی ہوا۔
پانچ چھ سو برس تک خلافت بنو امیہ اور بنو عباسیہ قائم رہی جو قریشی تھے، جب انہوں نے شریعت پر چلنا چھوڑ دیا تو ان کی خلافت چھن گئی، اس وقت سے آج تک پھر قریش کو خلافت اور سرداری نہیں ملی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب السير / حدیث: 2557
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 2563]» ¤ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 3500] ، [أحمد 94/4] ، [طبراني 338/9، 780] ، [البيهقي 141/8] و [دلائل النبوة 521/5]