حدیث نمبر: 2552
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْحَارِثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِيَّاكُمْ وَالظُّلْمَ، فَإِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ظلم کرنے سے بچو کیونکہ ظلم قیامت کے دن بہت سی تاریکیوں اور اندھیروں کا باعث ہوگا۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2551)
اس حدیث میں ظلم سے بچنے کا حکم ہے، اور خبردار کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں جو ظلم کرے گا وہ قیامت کے روز بہت سے اندھیروں میں بھٹکتا پھرے گا، اور یہ ظلم اپنی تمام اقسام پر مشتمل ہے، یعنی ظلم جان پر ہو، مال میں ہو، کسی کی عزت آبرو پر ہو، حقوق الله میں ہو، یا حقوق العباد میں ہو، ہر نوع ظلم ہے اور حرام ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔
اس حدیث میں ظلم سے بچنے کا حکم ہے، اور خبردار کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں جو ظلم کرے گا وہ قیامت کے روز بہت سے اندھیروں میں بھٹکتا پھرے گا، اور یہ ظلم اپنی تمام اقسام پر مشتمل ہے، یعنی ظلم جان پر ہو، مال میں ہو، کسی کی عزت آبرو پر ہو، حقوق الله میں ہو، یا حقوق العباد میں ہو، ہر نوع ظلم ہے اور حرام ہے۔
(مبارکپوری رحمہ اللہ)۔