کتب حدیثسنن دارميابوابباب: چوری کرنے والا چوری کا مال لے کر آئے گا
حدیث نمبر: 2527
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْمُكْتِبُ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِكٍ، حَدَّثَنِي كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَا نَهْبَ، وَلا إِغْلالَ، وَلا إِسْلَالَ، وَمَنْ يَغْلُلْ يَأْتِ بِمَا غَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ: الْإِسْلالُ: السَّرِقَةُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
کثیر بن عبداللہ بن عمر بن عوف مزنی نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ لوٹ مار جائز ہے نہ خیانت اور نہ چوری جائز ہے، اور جو چوری کرے گا وہ قیامت کے دن جو چرایا ہے اس کو اپنے ساتھ لے کر آئے گا۔“
امام ابومحمد دارمی رحمہ اللہ نے کہا: اسلال کے معنی چوری کے ہیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب السير / حدیث: 2527
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف من أجل كثير
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل كثير، [مكتبه الشامله نمبر: 2533]» ¤ اس روایت کی سند کثیر بن عبداللہ کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن حدیث کا معنی صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبراني 17/17-18، 16] و [الكامل لابن عدي 2080/6]