حدیث نمبر: 2526
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ زَائِدَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ وَجَدْتُمُوهُ غَلَّ، فَاضْرِبُوهُ وَأَحْرِقُوا مَتَاعَهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سالم بن عبداللہ نے اپنے باپ، انہوں نے ان کے دادا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کسی کو پاؤ کہ اس نے مالِ غنیمت میں سے چوری کی ہے تو اس کی ٹھکائی کرو اور اس کا سامان جلا دو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2525)
جو شخص مالِ غنیمت سے کچھ چرائے اسے واپس کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث میں مارنے اور جلانے کا ذکر ہے، لیکن ضعیف ہے، اس لئے چوری کا مال جمع کرا دینا واجب ہے، جلانا درست نہیں۔
ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا: اگر یہ حدیث صحیح بھی مان لی جائے تب بھی منسوخ ماننی پڑے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تسمہ بھی واپس لے لیا تھا، جلایا نہیں تھا۔
جو شخص مالِ غنیمت سے کچھ چرائے اسے واپس کرنا ضروری ہے۔
اس حدیث میں مارنے اور جلانے کا ذکر ہے، لیکن ضعیف ہے، اس لئے چوری کا مال جمع کرا دینا واجب ہے، جلانا درست نہیں۔
ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے کہا: اگر یہ حدیث صحیح بھی مان لی جائے تب بھی منسوخ ماننی پڑے گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک تسمہ بھی واپس لے لیا تھا، جلایا نہیں تھا۔