حدیث نمبر: 2523
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنْ أَبِي سَلامٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ عُبَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ: أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: "أَدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ، وَإِيَّاكُمْ وَالْغُلُولَ فَإِنَّهُ عَارٌ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عباده رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوئی اور دھاگے کو بھی ادا کر دو اور خیانت سے بچو جو کہ قیامت کے دن خیانت کرنے والوں کے لئے عار ہوگی۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2522)
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مالِ غنیمت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
مالِ غنیمت پانے والے کو چاہیے کہ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز جمع کر دے، چاہے وہ دھاگہ اور سوئی کیوں نہ ہو، اور بالکل خیانت نہ کرے۔
مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ مالِ غنیمت میں خیانت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
مالِ غنیمت پانے والے کو چاہیے کہ وہ ہر چھوٹی بڑی چیز جمع کر دے، چاہے وہ دھاگہ اور سوئی کیوں نہ ہو، اور بالکل خیانت نہ کرے۔
مزید تفصیل آگے آ رہی ہے۔