حدیث نمبر: 2508
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ "أَسْهَمَ يَوْمَ خَيْبَرَ لِلْفَارِسِ ثَلَاثَةَ أَسْهُمٍ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن گھوڑ سوار کو تین اور پیدل کو ایک حصہ (غنیمت میں سے) دیا۔
حدیث نمبر: 2509
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، نَحْوَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس طریق سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔ ترجمہ اوپر گذر چکا ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2507 سے 2509)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سوار کے تین حصے اور پیدل کا ایک حصہ ہے۔
بخاری شریف میں ہے کہ دو حصے گھوڑے کے اور ایک حصہ گھوڑے کے مالک کا۔
اگر کئی گھوڑے اس کے پاس ہوں تب بھی تین ہی حصے مالِ غنیمت سے ملیں گے۔
اور گھوڑے کا حصہ زیادہ اس لئے رکھا گیا کہ اس کی دیکھ بھال اور خوراک پر کافی خرچ کرنا پڑتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سوار کے تین حصے اور پیدل کا ایک حصہ ہے۔
بخاری شریف میں ہے کہ دو حصے گھوڑے کے اور ایک حصہ گھوڑے کے مالک کا۔
اگر کئی گھوڑے اس کے پاس ہوں تب بھی تین ہی حصے مالِ غنیمت سے ملیں گے۔
اور گھوڑے کا حصہ زیادہ اس لئے رکھا گیا کہ اس کی دیکھ بھال اور خوراک پر کافی خرچ کرنا پڑتا ہے۔