حدیث نمبر: 2507
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ، قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ بَنُ عَامِرٍ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ أَشْيَاءَ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ: "إِنَّكَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى الَّذِي ذَكَرَ اللَّهُ، وَإِنَّا كُنَّا نَرَى أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ، فَأَبَى ذَلِكَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن ہرمز نے کہا: نجده بن عامر نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس لکھ کر کچھ چیزوں کے بارے میں مسئلہ دریافت کیا، چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جواب میں لکھا کہ تم نے قرابت داروں کے حصے کے بارے میں دریافت کیا ہے جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے (قرآن میں) کیا ہے؟ ہم سمجھتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرابت دار وہی رشتہ دار ہیں (یعنی ہم لوگ) لیکن ہماری قوم نے اس کا انکار کر دیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2506)
مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ الله، اور اس کے رسول، اور ان کے قرابت داروں کا ہے، اور باقی چار حصے مجاہدین کے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [الأنفال: 41]» اس آیت میں ذی القربیٰ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناطے دار، سیدنا عباس اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہم ہیں، لیکن نسائی شریف میں مزید وضاحت ہے: «كَتَبْتَ تَسْأَلُنِيْ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَىٰ لِمَنْ هُوَ؟ وَهُوَ لَنَا أَهْلُ الْبَيْتِ .....» نیز اس میں تفصیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیمت کے لئے ہمیں بلایا اور ہمارے حق سے کم دینا چاہا تو ہم نے (اہلِ بیت نے) اس کے لینے سے انکار کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہم خلیفہ اور بیت المال کے لئے ہے۔
لیکن سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے لینے سے انکار کر دیا تھا۔
مالِ غنیمت میں سے پانچواں حصہ الله، اور اس کے رسول، اور ان کے قرابت داروں کا ہے، اور باقی چار حصے مجاہدین کے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: «﴿وَاعْلَمُوا أَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَأَنَّ لِلّٰهِ خُمُسَهُ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَى وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ﴾ [الأنفال: 41]» اس آیت میں ذی القربیٰ سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ناطے دار، سیدنا عباس اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہم ہیں، لیکن نسائی شریف میں مزید وضاحت ہے: «كَتَبْتَ تَسْأَلُنِيْ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَىٰ لِمَنْ هُوَ؟ وَهُوَ لَنَا أَهْلُ الْبَيْتِ .....» نیز اس میں تفصیل ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مالِ غنیمت کے لئے ہمیں بلایا اور ہمارے حق سے کم دینا چاہا تو ہم نے (اہلِ بیت نے) اس کے لینے سے انکار کر دیا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سہم خلیفہ اور بیت المال کے لئے ہے۔
لیکن سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما نے اس کے لینے سے انکار کر دیا تھا۔