حدیث نمبر: 2501
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "فُكُّوا الْعَانِيَ وَأَطْعِمُوا الْجَائِعَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیدی کو چھڑایا کرو، بھوکے کو کھانا کھلایا کرو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2500)
بخاری شریف میں مزید یہ ہے کہ مریض کی عیادت کرو۔
یہ امور حقوقِ انسانیت اور ایمان و اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں، اور دنیا میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔
مظلوم قیدی کو آزاد کرانا اتنی بڑی نیکی ہے جس کے ثواب کا انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح بھوکوں کو کھانا کھلانا وہ عمل ہے جس کی تعریف بہت سی آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ میں ہے، اور عیادتِ مریض حقوقِ مسلم میں مسنون ہے، حقوقِ انساں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ذرا ان تعلیمات پر غور کریں۔
بخاری شریف میں مزید یہ ہے کہ مریض کی عیادت کرو۔
یہ امور حقوقِ انسانیت اور ایمان و اخلاق سے تعلق رکھتے ہیں، اور دنیا میں ان کی بڑی اہمیت ہے۔
مظلوم قیدی کو آزاد کرانا اتنی بڑی نیکی ہے جس کے ثواب کا انداز نہیں کیا جا سکتا، اسی طرح بھوکوں کو کھانا کھلانا وہ عمل ہے جس کی تعریف بہت سی آیاتِ قرآنیہ اور احادیثِ نبویہ میں ہے، اور عیادتِ مریض حقوقِ مسلم میں مسنون ہے، حقوقِ انساں کا ڈھنڈورا پیٹنے والے ذرا ان تعلیمات پر غور کریں۔