کتب حدیثسنن دارميابوابباب: کتنی عمر کا بچہ قتل کیا جا سکتا ہے ؟
حدیث نمبر: 2500
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْقُرَظِيِّ، قالَ: "عُرِضْنَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَئِذٍ، فَمَنْ أَنْبَتَ الشَّعْرَ، قُتِلَ، وَمَنْ لَمْ يُنْبِتْ، تُرِكَ"، فَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ لَمْ يُنْبِتْ الشَّعْرَ، فَلَمْ يَقْتُلُونِي . يَعْنِي: يَوْمَ قُرَيْظَةَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطیہ القرظی نے کہا: (جس دن بنی قریظہ کے لوگ مارے گئے) اس دن ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو پیش کیا گیا تو جس کے بال اگ آئے تھے اس کو قتل کر دیا گیا اور جس کے بال نہیں نکلے تھے اسے چھوڑ دیا گیا، اور میں بھی ان میں سے تھا جس کے بال نہیں آئے تھے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2499)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ نابالغ بچے کو مارنا منع ہے، اور بلوغت کی کئی نشانیاں ہیں: داڑھی، مونچھ اور زیرِ ناف کے بال آنا، احتلام ہونا یا پندرہ سال کی عمر کا ہونا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب السير / حدیث: 2500
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح على شرط البخاري
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح على شرط البخاري، [مكتبه الشامله نمبر: 2507]» ¤ اس روایت کی سند صحیح على شرط البخاری ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 4404] ، [نسائي 3430] ، [ابن ماجه 2541] ، [ابن حبان 4780] ، [الحميدي 912]