حدیث نمبر: 2488
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "بَارَزْتُ رَجُلًا فَقَتَلْتُهُ، فَنَفَّلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَلَبَهُ، فَكَانَ شِعَارُنَا مَعَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ: أَمِتْ، يَعْنِي: اقْتُلْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے ایک شخص سے مقابلہ کیا اور اسے قتل کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا مال و متاع دے دیا اور اس دن سیدنا خالد بن الوليد رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہمارا کوڈ ورڈ تھا ”امت“ یعنی اقتل (قتل کر ڈالو)۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2487)
اس حدیث میں شعار کا مطلب وہ علامت یا کلمہ ہے جس سے فوجی ایک دوسرے کو پہچان لیں، اور اشتباه نہ ہو، اور بھائی بھائی کو قتل نہ کر ڈالے۔
شبِ خون کے وقت ایسا ہو سکتا ہے اس لئے کوڈ ورڈ مقرر کر لیا جاتا ہے، جیسا کہ مذکور بالا حدیث میں «أَمِتْ» کا لفظ ہے۔
دوسری احادیث میں «حم لا ينصرون» اور دیگر الفاظ آتے ہیں۔
اس حدیث میں شعار کا مطلب وہ علامت یا کلمہ ہے جس سے فوجی ایک دوسرے کو پہچان لیں، اور اشتباه نہ ہو، اور بھائی بھائی کو قتل نہ کر ڈالے۔
شبِ خون کے وقت ایسا ہو سکتا ہے اس لئے کوڈ ورڈ مقرر کر لیا جاتا ہے، جیسا کہ مذکور بالا حدیث میں «أَمِتْ» کا لفظ ہے۔
دوسری احادیث میں «حم لا ينصرون» اور دیگر الفاظ آتے ہیں۔