حدیث نمبر: 2474
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ، وَابْنُ لَهِيعَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ شَرِيكٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "خَيْرُ الأَصْحَابِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهِ، وَخَيْرُ الْجِيرَانِ عِنْدَ اللَّهِ خَيْرُهُمْ لِجَارِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الله تعالیٰ کے نزدیک بہترین ساتھی (رفقائے سفر) وہ ہیں جو اپنے ساتھی کے لئے اچھے ہوں، اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے لئے بہتر ہو۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2473)
اس حدیث میں سفر کے لئے اچھے رفقاء اختیار کرنے اور اپنے ہم سفر ساتھیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ترغیب ہے۔
اسی طرح پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم ہے، اور وہ پڑوسی اللہ کے نزدیک بہت پیارا ہے جو اپنے پڑوسی کا خیال رکھے، اسے ایذا نہ پہنچائے، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہو۔
اس حدیث میں سفر کے لئے اچھے رفقاء اختیار کرنے اور اپنے ہم سفر ساتھیوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی ترغیب ہے۔
اسی طرح پڑوسی کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم ہے، اور وہ پڑوسی اللہ کے نزدیک بہت پیارا ہے جو اپنے پڑوسی کا خیال رکھے، اسے ایذا نہ پہنچائے، اس کے دکھ سکھ میں شریک ہو۔