حدیث نمبر: 2331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُظَاهِرٌ وَهُوَ ابْنُ أَسْلَمَ، أَنَّهُ سَمِعَ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لِلْأَمَةِ تَطْلِيقَتَانِ وَقُرْؤُهَا حَيْضَتَانِ" . قَالَ أَبُو عَاصِمٍ: سَمِعْتُهُ مِنْ مُظَاهِرٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لونڈی کی دو طلاقیں ہیں اور اس کی عدت دو حیض ہے“، ابوعاصم نے کہا: یہ میں نے مظاہر بن اسلم سے سنا ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 2330)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی کو صرف دو بار طلاق دی جا سکتی ہے اگر اس کا شوہر بھی غلام ہو، اور اس کی عدت بھی دو حیض ہوگی۔
لیکن حدیث ضعیف ہونے کے سبب یہ مفہوم غلط ہے۔
صحیح یہ ہے کہ طلاق اور عدت میں آزاد اور لونڈی دونوں برابر ہیں کیونکہ: «﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [البقرة: 229]» اور «﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [البقرة: 228]» سب کے لیے عام ہے۔
اہلِ حدیث کا یہی مسلک ہے اور یہی صحیح ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس ضعیف حدیث سے استدلال کر کے کہا کہ لونڈی کی طلاق دو اور عدت بھی دو حیض ہے۔
یہ روایت دارقطنی وغیرہ میں بھی ہے لیکن اس کی سند میں عمر بن شبیب اور عطیہ دونوں ضعیف ہیں، امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے جو موقوف ہے۔
واللہ اعلم۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لونڈی کو صرف دو بار طلاق دی جا سکتی ہے اگر اس کا شوہر بھی غلام ہو، اور اس کی عدت بھی دو حیض ہوگی۔
لیکن حدیث ضعیف ہونے کے سبب یہ مفہوم غلط ہے۔
صحیح یہ ہے کہ طلاق اور عدت میں آزاد اور لونڈی دونوں برابر ہیں کیونکہ: «﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ﴾ [البقرة: 229]» اور «﴿وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ﴾ [البقرة: 228]» سب کے لیے عام ہے۔
اہلِ حدیث کا یہی مسلک ہے اور یہی صحیح ہے۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے اس ضعیف حدیث سے استدلال کر کے کہا کہ لونڈی کی طلاق دو اور عدت بھی دو حیض ہے۔
یہ روایت دارقطنی وغیرہ میں بھی ہے لیکن اس کی سند میں عمر بن شبیب اور عطیہ دونوں ضعیف ہیں، امام دارقطنی رحمہ اللہ نے کہا: صحیح یہ ہے کہ یہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا قول ہے جو موقوف ہے۔
واللہ اعلم۔