حدیث نمبر: 2307
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا الطَّلَاقَ مِنْ غَيْرِ بَأْسٍ، فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے اپنے خاوند سے بلاوجہ طلاق مانگی اس کے اوپر جنت کی خوشبو حرام ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2306)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کا بلاوجہ طلاق مانگنا گناہ ہے اور ایسی عورت پر جنّت کی خوشبو سونگھنا حرام ہوگا۔
اسی طرح مرد کو بھی بلا ضرورت طلاق دینا منع ہے، طلاق اسی حالت میں جائز ہے جب مصالحت اور موافقت کا کوئی راستہ نہ ہو، اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ عِنْدَ اللّٰهِ الطَّلَاقُ.» کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عورت کا بلاوجہ طلاق مانگنا گناہ ہے اور ایسی عورت پر جنّت کی خوشبو سونگھنا حرام ہوگا۔
اسی طرح مرد کو بھی بلا ضرورت طلاق دینا منع ہے، طلاق اسی حالت میں جائز ہے جب مصالحت اور موافقت کا کوئی راستہ نہ ہو، اور حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم: «أَبْغَضُ الْحَلَالِ عِنْدَ اللّٰهِ الطَّلَاقُ.» کو بھی نظر میں رکھنا چاہیے۔