کتب حدیث ›
سنن دارمي › ابواب
› باب: آدمی کا عورت کو دیکھ کر فتنے میں پڑنے کا اندیشہ ہو تو وہ کیا کرے ؟
حدیث نمبر: 2252
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَلَّامٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَأَعْجَبَتْهُ، فَأَتَى سَوْدَةَ وَهِيَ تَصْنَعُ طِيبًا، وَعِنْدَهَا نِسَاءٌ، فَأَخْلَيْنَهُ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ قَالَ: "أَيُّمَا رَجُلٍ رَأَى امْرَأَةً تُعْجِبُهُ، فَلْيَقُمْ إِلَى أَهْلِهِ، فَإِنَّ مَعَهَا مِثْلَ الَّذِي مَعَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت کو دیکھا جو آپ کو بہت بھا گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین سیدہ سوده رضی اللہ عنہا کے پاس آئے جو خوشبو کشید کر رہی تھیں اور ان کے پاس عورتیں بیٹھی تھیں، وہ عورتیں چھوڑ کر چلی گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی خواہش پوری کر لی پھر فرمایا: ”جو کوئی بھی کسی ایسی عورت کو دیکھے جو اس کا دل لبھائے تو وہ اپنی بیوی کے پاس چلا جائے (یعنی اس سے اپنی شہوت پوری کرے) کیونکہ بیوی کے پاس بھی (قضائے حاجت کے لئے) وہی ہے جو اس عورت کے پاس ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 2251)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عورت پرنظر پڑنا الله تعالیٰ کی طرف سے تھا تاکہ امّت کو ایسی حالت میں اپنے اوپر کنٹرول کی پاکیزہ تعلیم دی جائے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قولاً و فعلاً امّت کو اس کی تعلیم دی کہ عورت کو دیکھ کر آدمی فتنے میں مبتلا نہ ہو، اور یہ حقیقت ہے کہ شیطان عورت کے آگے پیچھے لگا رہتا ہے اور غیروں کی نظر میں بد صورت و گندی عورت کو اچھی صورت میں دکھاتا ہے تاکہ وہ جادۂ حق اور صراطِ مستقیم سے ہٹ کر فتنہ میں مبتلا ہو جائے۔
ایسے میں انسان کو چاہیے کہ اللہ کی پناہ طلب کرے اور جائز طریقے سے اپنی حاجت پوری کرے، اور شیطان کو، نفسِ امارہ کو کچل دے، ایسا نہ ہو کہ شیطان اسے ہی ذلیل و رسوا کرا دے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرد اگر اپنی بیوی سے دن میں جماع کرے تو کوئی حرج نہیں، اور بیوی کے لئے ضروری ہے کہ اگر گھر کے کام کاج میں ہو تو سب کچھ ترک کر کے شوہر کی دعوت پر لبیک کہے اور چوں چرا نہ کرے۔
اس حدیث میں ایک اور مصلحت پوشیدہ ہے جو طبی نقطۂ نظر سے بہت اہم ہے، وہ یہ کہ کسی وجہ سے آدمی کی شہوت جاگ پڑے تو اس کو دبانا ٹھیک نہیں، ورنہ وہ جسمِ انسانی کو ضرر پہنچائے گی، کیل مہاسے، جریان و احتلام اور دیگر بیماریوں کی شکل میں مبتلا کر دے گی، قربان جائیں ہادیٔ برحق خاتم الرسل سیدنا محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ہمیں ایسی پاکیزہ تعلیمات اور حفظانِ صحت کے قیمتی اصولوں سے نوازا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس عورت پرنظر پڑنا الله تعالیٰ کی طرف سے تھا تاکہ امّت کو ایسی حالت میں اپنے اوپر کنٹرول کی پاکیزہ تعلیم دی جائے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قولاً و فعلاً امّت کو اس کی تعلیم دی کہ عورت کو دیکھ کر آدمی فتنے میں مبتلا نہ ہو، اور یہ حقیقت ہے کہ شیطان عورت کے آگے پیچھے لگا رہتا ہے اور غیروں کی نظر میں بد صورت و گندی عورت کو اچھی صورت میں دکھاتا ہے تاکہ وہ جادۂ حق اور صراطِ مستقیم سے ہٹ کر فتنہ میں مبتلا ہو جائے۔
ایسے میں انسان کو چاہیے کہ اللہ کی پناہ طلب کرے اور جائز طریقے سے اپنی حاجت پوری کرے، اور شیطان کو، نفسِ امارہ کو کچل دے، ایسا نہ ہو کہ شیطان اسے ہی ذلیل و رسوا کرا دے۔
اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مرد اگر اپنی بیوی سے دن میں جماع کرے تو کوئی حرج نہیں، اور بیوی کے لئے ضروری ہے کہ اگر گھر کے کام کاج میں ہو تو سب کچھ ترک کر کے شوہر کی دعوت پر لبیک کہے اور چوں چرا نہ کرے۔
اس حدیث میں ایک اور مصلحت پوشیدہ ہے جو طبی نقطۂ نظر سے بہت اہم ہے، وہ یہ کہ کسی وجہ سے آدمی کی شہوت جاگ پڑے تو اس کو دبانا ٹھیک نہیں، ورنہ وہ جسمِ انسانی کو ضرر پہنچائے گی، کیل مہاسے، جریان و احتلام اور دیگر بیماریوں کی شکل میں مبتلا کر دے گی، قربان جائیں ہادیٔ برحق خاتم الرسل سیدنا محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر جنہوں نے ہمیں ایسی پاکیزہ تعلیمات اور حفظانِ صحت کے قیمتی اصولوں سے نوازا۔