حدیث نمبر: 2230
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ أَوْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: "أَيُّمَا امْرَأَةٍ زَوَّجَهَا وَلِيَّانِ لَهَا، فَهِيَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ بَيْعًا مِنْ رَجُلَيْنِ، فَهُوَ لِلْأَوَّلِ مِنْهُمَا" .
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبہ بن عامر یا سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا نکاح دو ولی کر دیں (ایک ایک شخص سے اور دوسرا دوسرے شخص سے) تو وہ عورت اس کو ملے گی جس سے پہلے نکاح ہوا، اور جو شخص ایک چیز دو آدمیوں کے ہاتھ بیچے تو جس کے ہاتھ پہلے بیچی ہے اسی کو ملے گی۔“
حدیث نمبر: 2231
حَدَّثَنَا عَفَّان، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِنَحْوِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
اس سند سے بھی حسن نے سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے ویسی ہی حدیث بیان کی جیسی اوپر ذکر کی گئی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 2229 سے 2231)
گرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن صحیح یہی ہے جو حدیث میں ذکر ہوا کہ ایک خاتون کے دو ولی جب دو مختلف آدمیوں سے مختلف اوقات میں نکاح کر دیں تو وہ عورت اس آدمی کی بیوی قرار پائے گی جس سے پہلے نکاح کیا گیا ہو اور دوسرا نکاح از خود باطل قرار پائے گا، کیونکہ شریعت نے نکاح پر نکاح کو ناجائز قرار دیا ہے، اور اگر دونوں نکاح بیک وقت کئے جائیں تو دونوں باطل قرار پائیں گے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، اسی طرح بیع کا معاملہ ہے، جب ایک چیز ایک شخص کے ہاتھ بک گئی تو دوسرے ولی کا بیچنا ناجائز ہوگا۔
اگر بیچا تو پہلے ولی کا ہی اعتبار ہوگا۔
واللہ اعلم۔
گرچہ یہ حدیث ضعیف ہے لیکن صحیح یہی ہے جو حدیث میں ذکر ہوا کہ ایک خاتون کے دو ولی جب دو مختلف آدمیوں سے مختلف اوقات میں نکاح کر دیں تو وہ عورت اس آدمی کی بیوی قرار پائے گی جس سے پہلے نکاح کیا گیا ہو اور دوسرا نکاح از خود باطل قرار پائے گا، کیونکہ شریعت نے نکاح پر نکاح کو ناجائز قرار دیا ہے، اور اگر دونوں نکاح بیک وقت کئے جائیں تو دونوں باطل قرار پائیں گے، اس میں کسی کا اختلاف نہیں، اسی طرح بیع کا معاملہ ہے، جب ایک چیز ایک شخص کے ہاتھ بک گئی تو دوسرے ولی کا بیچنا ناجائز ہوگا۔
اگر بیچا تو پہلے ولی کا ہی اعتبار ہوگا۔
واللہ اعلم۔