حدیث نمبر: 1584
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامٍ، قَالَ: "كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَتَبَادِرُ الظِّلَّ فِي أُطُمِ بَنِي غَنْمٍ، فَمَا هُوَ إِلَّا مَوَاضِعُ أَقْدَامِنَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھتے، پھر واپس ہوتے تو بنوغنم کے قلعہ کے سائے تلے جانے میں جلدی کرتے جو ہمارے قدموں کے برابر ہوتا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1583)
یعنی سایہ زیادہ طویل نہ ہوتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوّل وقت میں جمعہ پڑھتے تھے۔
آج عصر کے وقت تک نمازِ جمعہ کو مؤخر کیا جا تا ہے جو قطعاً اسوۂ حسنہ یا سنّت کی پیروی نہیں۔
یعنی سایہ زیادہ طویل نہ ہوتا تھا، اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوّل وقت میں جمعہ پڑھتے تھے۔
آج عصر کے وقت تک نمازِ جمعہ کو مؤخر کیا جا تا ہے جو قطعاً اسوۂ حسنہ یا سنّت کی پیروی نہیں۔
حدیث نمبر: 1585
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ الْحَارِثِ، قَالَ: سَمِعْتُ إِيَاسَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ فَيْءٌ يُسْتَظَلُّ بِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھ کر واپس ہوتے تو دیواروں کا سایا اتنا نہیں ہوتا تھا کہ ہم اس میں ٹھہر سکیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1584)
اس صحیح متفق علیہ حدیث سے جمعہ کی نماز اوّل وقت میں پڑھنے کا واضح ثبوت ملا۔
سعودی عرب میں اسی پر عمل ہے۔
اور ساری مساجد میں ایک ہی وقت میں نماز ہوتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ کسی مسجد میں بارہ بجے، کسی میں ایک بجے، اور کسی مسجد میں دو اور تین بجے تک جمعہ کی نماز ہوتی رہے۔
الله تعالیٰ لوگوں کو سمجھ دے، آمین۔
اس صحیح متفق علیہ حدیث سے جمعہ کی نماز اوّل وقت میں پڑھنے کا واضح ثبوت ملا۔
سعودی عرب میں اسی پر عمل ہے۔
اور ساری مساجد میں ایک ہی وقت میں نماز ہوتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ کسی مسجد میں بارہ بجے، کسی میں ایک بجے، اور کسی مسجد میں دو اور تین بجے تک جمعہ کی نماز ہوتی رہے۔
الله تعالیٰ لوگوں کو سمجھ دے، آمین۔