حدیث نمبر: 1533
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا نُودِيَ بِالْأَذَانِ، أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ لَهُ ضُرَاطٌ حَتَّى لَا يَسْمَعَ الْأَذَانَ، فَإِذَا قُضِيَ الْأَذَانُ، أَقْبَلَ، فَإِذَا ثُوِّبَ، أَدْبَرَ، فَإِذَا قُضِيَ التَّثْوِيبُ، أَقْبَلَ حَتَّى يَخْطِرَ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ فَيَقُولُ: اذْكُرْ كَذَا، اذْكُرْ كَذَا، لِمَا لَمْ يَكُنْ يَعْنِي يَذْكُرُ، حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ إِنْ يَدْرِي كَمْ صَلَّى، فَإِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ كَمْ صَلَّى ثَلَاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب نماز کے لئے اذان دی جاتی ہے تو شیطان پیٹھ موڑ کر ریاح خارج کرتا ہوا بھاگتا ہے تاکہ اذان نہ سن سکے، جب اذان پوری ہو جاتی ہے تو وہ (مردود) پھر آ جاتا ہے، اور جب تکبیر ہونے لگتی ہے تو بھاگ جاتا ہے، اور جب اقامت ختم ہو جاتی ہے تو پھر آ جاتا ہے اور آدمی کے دل میں وسوسے ڈالتا رہتا ہے، کہتا ہے فلاں فلاں بات یاد کرو، وہ باتیں یاد دلاتا ہے جو اس نمازی کے ذہن میں نہ تھیں، اس طرح آدمی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، سو تم میں سے کوئی جب نہ یاد رکھ سکے کہ اس نے تین یا چار کتنی رکعت نماز پڑھی ہے تو وہ بیٹھے بیٹھے ہی دو سجدے کرلے (یعنی سجدہ سہو کر لے)۔“
حدیث نمبر: 1534
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونُ، أَنْبأَنَا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا لَمْ يَدْرِ أَحَدُكُمْ أَثَلَاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ، فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً، ثُمَّ يَسْجُدُ بَعْدَ ذَلِكَ سَجْدَتَيْنِ، فَإِنْ كَانَ صَلَّى خَمْسًا شَفَعَتَا لَهُ صَلَاتَهُ، وَإِنْ كَانَ صَلَّى أَرْبَعًا، كَانَتَا تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: آخُذُ بِهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نہ جان سکے کہ اس نے تین رکعت نماز پڑھی ہے یا چار رکعت تو وہ اٹھے اور ایک رکعت اور پڑھ لے، پھر دو سجدہ سہو کر لے، اگر وہ رکعت پانچویں ہو گی تو یہ سجدے مل کر اس کی نماز دوگانہ ہو جائے گی، اور چوتھی رکعت ہو گی تو یہ دو سجدے شیطان کو ذلیل کریں گے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: میں اسی کا قائل و عامل ہوں۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1532 سے 1534)
یہاں سے امام دارمی رحمہ اللہ نے سجودِ سہو کا ذکر شروع کیا ہے۔
پہلی حدیث میں ہے کہ شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی، یقین پر بنا کرے یعنی چار رکعت پر یقین ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے، اور شک میں ہو، یقین نہ ہو سکے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار رکعت تو ایسی صورت میں ایک رکعت اور پڑھ لے، پھر سجدۂ سہو کرے، اب مسئلہ یہ ہے کہ سلام پھیرنے سے پہلے سجدے کرے یا بعد میں، تو دونوں طرح کے ثبوت ہیں جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آرہی ہے۔
یہاں سے امام دارمی رحمہ اللہ نے سجودِ سہو کا ذکر شروع کیا ہے۔
پہلی حدیث میں ہے کہ شیطان وسوسے ڈالتا ہے اور نمازی بھول جاتا ہے کہ اس نے کتنی رکعت نماز پڑھی، یقین پر بنا کرے یعنی چار رکعت پر یقین ہو تو وہ سجدہ سہو کر لے، اور شک میں ہو، یقین نہ ہو سکے کہ تین رکعت پڑھیں یا چار رکعت تو ایسی صورت میں ایک رکعت اور پڑھ لے، پھر سجدۂ سہو کرے، اب مسئلہ یہ ہے کہ سلام پھیرنے سے پہلے سجدے کرے یا بعد میں، تو دونوں طرح کے ثبوت ہیں جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آرہی ہے۔