حدیث نمبر: 1531
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدِ بْنِ الْمُعَلَّى، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: "أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ سورة الأنفال آية 24"، ثُمَّ قَالَ: "أَلَا أُعَلِّمُكَ سُورَةً أَعْظَمَ سُورَةٍ مِنْ الْقُرْآنِ قَبْلَ أَنْ أَخْرُجَ مِنْ الْمَسْجِدِ ؟". فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ، قَالَ: "الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، وَهِيَ السَّبْعُ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُوتِيتُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید بن معلى رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے پاس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو کہا: ”کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں پڑھا: «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ ...» [انفال: 24/8] یعنی جب الله اور اس کے رسول تمہیں بلائیں تو ہاں میں جواب دو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں مسجد سے نکلنے سے پہلے ایک ایسی سورہ کی تعلیم نہ دوں جو قرآن کی عظیم ترین سورہ ہے؟“ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے باہر نکلنے کا ارادہ فرمایا تو کہا: ” «اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ» یہی وہ سبع مثانی اور قرآن عظیم ہے جو تمہیں دی گئی ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 1530)
سبع مثانی سے مراد سات آیات جو بار بار پڑھی جائیں اور اشارہ ہے اس آیتِ شریفہ کی طرف: «﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ [الحجر: 87]» اس حدیث کی تفصیل بخاری شریف کی روایت میں ہے۔
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں مجھے بلایا، میں نے کوئی جواب نہ دیا، اس کے بعد میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا ...... الخ۔
سبع مثانی سے مراد سات آیات جو بار بار پڑھی جائیں اور اشارہ ہے اس آیتِ شریفہ کی طرف: «﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ [الحجر: 87]» اس حدیث کی تفصیل بخاری شریف کی روایت میں ہے۔
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں مجھے بلایا، میں نے کوئی جواب نہ دیا، اس کے بعد میں نے حاضرِ خدمت ہو کر عرض کیا کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کا فرمان نہیں سنا ...... الخ۔