کتب حدیثسنن دارميابوابباب: نماز میں جمائی لینے کا بیان
حدیث نمبر: 1420
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَشُدَّ يَدَهُ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ" . قَالَ أَبُو مُحَمَّد: يَعْنِي عَلَى فِيهِ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن ابی سعید نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی جمائی لے تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے، کیونکہ شیطان منہ میں داخل ہو جاتا ہے۔“ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: یعنی منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1418 سے 1420)
اس روایت میں «فَلْيَشُدَّ» ہے بعض نسخے میں «فَلْيَسُدَّ» اور مسلم کی روایات میں «فَلْيُمْسِكْ» اور «فَلْيَكْظِمْ» کا لفظ ہے جس کے معنی روکنے، پی جانے کے ہیں، یعنی جہاں تک ہو سکے روکے کیونکہ یہ سستی و کاہلی او ثقل کی نشانی ہے، زیادہ مجبور ہو تو منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
بعض روایات میں تصریح ہے: «إِذَا تَثَاءَبَ أَحَدُكُمْ فِي الصَّلَاةِ.» یعنی جب تم میں سے کسی کو نماز میں جمائی آئے تو منہ پر ہاتھ رکھ لے، اس لئے کہ اس فعل سے شیطان کو اندر گھسنے اور نماز میں وسوسہ ڈالنے اور بھلانے کا موقع مل جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1420
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده حسن من أجل نعيم بن حماد، [مكتبه الشامله نمبر: 1422]
تخریج حدیث اس روایت کی سند حسن ہے، لیکن دوسری سند سے حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 2995] ، [أبوداؤد 5026، 5027] ، [أبويعلی 1162] ، [ابن حبان 2360]