کتب حدیثسنن دارميابوابباب: رکوع میں کیا کہنا چاہئے
حدیث نمبر: 1342
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِيَاسُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ، يَقُولُ: لَمَّا نَزَلَتْ فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ سورة الواقعة آية 74، قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "اجْعَلُوهَا فِي رُكُوعِكُمْ"، فَلَمَّا نَزَلَتْ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى سورة الأعلى آية 1 قَالَ: "اجْعَلُوهَا فِي سُجُودِكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عقبۃ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب یہ آیت « ﴿فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ﴾ » نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”یہ رکوع میں کہا کرو“، پھر جب «﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾» نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنے سجدوں میں پڑھا کرو۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1342
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1344]
تخریج حدیث اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداؤد 869] ، [ابن ماجه 887] ، [أبويعلی 1738] ، [ابن حبان 1898]
حدیث نمبر: 1342
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ الْمُسْتَوْرِدِ، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ، أَنَّهُ صَلَّى مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَكَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيمِ"، وَفِي سُجُودِهِ: "سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى"، وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ رَحْمَةٍ إِلَّا وَقَفَ عِنْدَهَا فَسَأَلَ، وَمَا أَتَى عَلَى آيَةِ عَذَابٍ إِلَّا تَعَوَّذَ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں «سجان ربي العظيم» اور سجدے میں «سبحان ربي الاعلي» کہتے تھے، اور آیت رحمت سے گزرتے تو ٹھہر جاتے اور رحمت کی دعا کرتے، اور آیت عذاب پڑھتے تو پناہ طلب کرتے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1342
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1345]
تخریج حدیث یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسلم 772] ، [أبوداؤد 871] ، [ترمذي 262] ، [نسائي 1007] ، [ابن ماجه 897] ، [ابن حبان 1897]