کتب حدیثسنن دارميابوابباب: جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنے کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1310
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: قُلْتُ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ: رَجُلٌ صَلَّى فِي بَيْتِهِ، ثُمَّ أَدْرَكَ الْإِمَامَ وَهُوَ يُصَلِّي، أَيُصَلِّي مَعَهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، قُلْتُ: بِأَيَّتِهِمَا يَحْتَسِبُ ؟ قَالَ: بِالَّتِي صَلَّى مَعَ الْإِمَامِ، فَإِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي الْجَمِيعِ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ بِضْعًا وَعِشْرِينَ جُزْءًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
داؤد بن ابی ہند نے کہا: میں نے سعید بن المسيب رحمہ اللہ سے دریافت کیا کہ ایک آدمی نے اپنے گھر میں نماز پڑھ لی، پھر امام کو نماز پڑھتے پا لیا تو کیا وہ اس امام کے ساتھ نماز پڑھے؟ سعید بن المسیب رحمہ اللہ نے کہا: ہاں نماز پڑھے، میں نے عرض کیا: پھر ان دو میں سے کون سی نماز (فرض) شمار ہو گی؟ ابن المسیب رحمہ اللہ نے کہا: وہی جو امام کے ساتھ پڑھی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہم سے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی جماعت کے ساتھ نماز اس کے اکیلے نماز پڑھنے سے بیس گنا سے زیادہ بہتر ہے۔“
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1310
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1312]
تخریج حدیث یہ حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [بخاري 648] ، [مسلم 649] ، نیز صحیحین میں خمس وعشرین ہے یعنی 25 گنا زیادہ ثواب۔
حدیث نمبر: 1311
أَخْبَرَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "صَلَاةُ الرَّجُلِ فِي جَمَاعَةٍ تَزِيدُ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ سَبْعًا وَعِشْرِينَ دَرَجَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کی جماعت کے ساتھ کی نماز اکیلے پڑھنے سے ستائیس گنا زیادہ ہے۔“
وضاحت:
(تشریح احادیث 1309 سے 1311)
آدمی اکیلے نماز پڑھے تو صرف ایک نماز کا ثواب اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرے تو 25 یا 27 نمازوں کا ثواب ملتا ہے۔
صحیحین کی روایت میں ہے کہ نماز باجماعت 27 نمازوں سے بھی افضل ہے۔
اس سے نماز باجماعت کی فضیلت معلوم ہوئی، اور ان دونوں روایات میں کوئی تعارض نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کسی وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے 25 کہا ہو اور کسی وقت 27 کہا ہو۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الصللاة / حدیث: 1311
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1313]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح اور حدیث متفق علیہ ہے۔ دیکھئے: [بخاري 645] ، [مسلم 650] ، [أبويعلی 5752] ، [ابن حبان 2052]