کتب حدیثسنن دارميابوابباب: حیض کی حالت میں جماع کرنے پر کفارے کا بیان
حدیث نمبر: 1132
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ . ح وأَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ فِيمَنْ أَتَى أَهْلَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَا: "ذَنْبٌ أَتَاهُ، يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَيَتُوبُ إِلَيْهِ، وَلَا يَعُودُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اسماعیل بن ابی خالد اور عامر شعبی رحمہما اللہ دونوں نے اس شخص کے بارے میں فرمایا: جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کرے، فرمایا: اس نے گناہ کا ارتکاب کیا، اللہ سے استغفار کرے، توبہ کرے، اور آئندہ ایسا نہ کرے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1132
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1136]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 12376]
حدیث نمبر: 1133
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ، مِثْلَهُ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے بھی مذکورہ بالا قول مروی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1133
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف المثنى هو: ابن الصباح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف المثنى هو: ابن الصباح، [مكتبه الشامله نمبر: 1137]» ¤ اس روایت کی سند مثنی بن الصباح کی وجہ سے ضعیف ہے اور یہ اثر [مصنف ابن أبى شيبه 12380] و [مصنف عبدالرزاق 1269] میں موجود ہے۔
حدیث نمبر: 1134
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، وَأَبُو النُّعْمَانِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: "ذَنْبٌ أَتَاهُ، وَلَيْسَ عَلَيْهِ كَفَّارَةٌ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: اس نے گناہ کیا، لیکن اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1134
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1138]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [ابن أبى شيبه 12374] ۔ اس کی سند میں محمد بن زید: کندی ہیں۔
حدیث نمبر: 1135
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الَّذِي يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: "يَعْتَذِرُ إِلَى اللَّهِ، وَيَتُوبُ إِلَى اللَّهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمن بن قاسم نے روایت کیا، ان کے والد قاسم سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے جماع کر لیتا ہے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ سے معذرت کرے اور توبہ کرے گا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1135
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1139]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 12379]
حدیث نمبر: 1136
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، وَلَيْسَ عَلَيْكَ شَيْءٌ"، يَعْنِي: إِذَا وَقَعَ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے مروی ہے: اللہ سے مغفرت طلب کرے اور اس کے اوپر کوئی کفارہ نہیں۔ یعنی جب بیوی سے حالت حیض میں جماع کر لے (تو اس پر کوئی کفارہ نہیں، بس توبہ و استغفار کرے)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1136
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف، [مكتبه الشامله نمبر: 1140]» ¤ اس قول کی سند ضعیف ہے، اور پیچھے تخریج گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 1137
أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْخَطَّابِ الْعَنْبِرِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: سُئِلَ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ الرَّجُلِ يَأْتِي امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: "يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مالک بن الخطاب عنبری سے مروی ہے: میں سن رہا تھا ابن ابی ملیکہ سے سوال کیا گیا کہ آدمی حالت حیض میں اپنی بیوی سے جماع کرے تو؟ فرمایا: وہ اللہ سے مغفرت طلب کرے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1137
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: الأثر صحيح بشواهده
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأثر صحيح بشواهده، [مكتبه الشامله نمبر: 1141]» ¤ اس روایت کی سند شواہد کے پیشِ نظر صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1138
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ: رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي أَبُولُ دَمًا، قَالَ: تَأْتِي امْرَأَتَكَ وَهِيَ حَائِضٌ ؟، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: "اتَّقِ اللَّهَ، وَلَا تَعُدْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوقلابہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: ایک آدمی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں خونی پیشاب کر رہا ہوں، انہوں نے تعبیر بتائی: تم اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرتے ہو۔ کہا: ہاں، ایسا تو ہے، فرمایا: اللہ سے ڈرو آئندہ ایسا نہ کرنا۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1138
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده منقطع أبو قلابة لم يدرك عمر بن الخطاب
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده منقطع أبو قلابة لم يدرك عمر بن الخطاب، [مكتبه الشامله نمبر: 1142]» ¤ اس روایت کی سند میں انقطاع ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 12372] و [مصنف عبدالرزاق 1270]
حدیث نمبر: 1139
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، فِي الَّذِي يَقَعُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: "يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے ایسے آدمی کے بارے میں مروی ہے جو اپنی بیوی سے حالت حیض میں جماع کرے، فرمایا: اللہ سے مغفرت طلب کرے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1131 سے 1139)
یہ تمام روایات سند کے لحاظ سے صحیح ہونے کے باوجود آثار اور اقوالِ موقوفہ ہیں، اور صحیح حدیث میں کفارہ بھی مذکور ہے جیسا کہ آگے آرہا ہے، اس لئے اگر کسی سے یہ غلطی ہو جائے تو توبہ و استغفار بھی کرے، آگے ایسا نہ کرنے کا عزمِ مصمم کرے اور کفارہ بھی دے۔
حیض کی حالت میں جماع کرنا گناہ بھی ہے اور سخت مضرِ صحت بھی، اسلام نے جہاں باطنی پاکی و طہارت کی تعلیم دی ہے تو ظاہری نجاست و گندگی سے بھی روکا ہے، اور ظاہر کو بھی پاک و صاف رکھنے کی تعلیم دی ہے۔
«أسأل اللّٰه التوفيق للجميع» ۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 1139
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1143]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1267] و [ابن أبى شيبه 32/4/1]