حدیث نمبر: 1058
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنْ الْجُنُبِ يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ ثُمَّ يَمْسَحُهُ بِهِ، قَالَ: "لَا بَأْسَ بِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبداللہ بن عثمان بن خثیم نے کہا: میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے پوچھا: جنبی کو پسینہ آئے اور وہ کپڑے سے پسینہ پونچھ لے، کہا: کوئی حرج نہیں۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 1057)
اس روایت سے معلوم ہوا وہ کپڑے جو حالتِ جنابت میں پہن لئے ان کو استعمال کرنے اور ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
اس روایت سے معلوم ہوا وہ کپڑے جو حالتِ جنابت میں پہن لئے ان کو استعمال کرنے اور ان میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1059
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَرَى بِعَرَقِ الْجُنُبِ فِي الثَّوْبِ بَأْسًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالله بن عثمان نے کہا: سعید بن جبیر رحمہ اللہ جنبی کے کپڑے میں پسینہ لگ جانے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1060
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ الشَّعْبِيِّ أَنَّهُ كَانَ "لَا يَرَى بِهِ بَأْسًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام شعبی رحمہ اللہ بھی اس میں حرج نہیں سمجھتے تھے۔
حدیث نمبر: 1061
أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: مَا كُلُّ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَجِدُونَ ثَوْبَيْنِ، فَقَالَ: "إِذَا اغْتَسَلْتَ أَلَسْتَ تَلْبَسُهُ فَذَاكَ بِذَاكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب ہی اصحاب دو کپڑے یا چادر نہیں رکھتے تھے، انہوں نے کہا: جب دھو لو گے تو کیا تم اس کو پہنو گے نہیں، یہ بالکل اسی طرح ہے۔
حدیث نمبر: 1062
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ: أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا سُئِلَتْ عَنْ الرَّجُلِ يُصِيبُ الْمَرْأَةَ، ثُمَّ يَلْبَسُ الثَّوْبَ فَيَعْرَقُ فِيهِ، "فَلَمْ تَرَ بِهِ بَأْسًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم بن محمد سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو عورت سے جماع کرے پھر کپڑا پہن لے، اور اس میں اسے پسینہ بھی آئے، تو انہوں نے اس میں کوئی حرج نہیں سمجھا۔
حدیث نمبر: 1063
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ أَنْ يَعْرَقَ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ فِي الثَّوْبِ يُصَلَّى فِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ نے کہا: جنبی یا حائضہ کو جس کپڑے میں پسینہ آئے اس میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 1064
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْجُنُبِ يَعْرَقُ فِي ثَوْبِهِ، قَالَ: "لَا يَضُرُّهُ، وَلَا يَنْضَحُهُ بِالْمَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے جنبی کے بارے میں مروی ہے کہ اس کے کپڑے میں پسینہ لگ جائے، کہا: کوئی حرج نہیں، اور اس پر پانی چھڑکنے کی بھی ضرورت نہیں۔
حدیث نمبر: 1065
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي الْحَائِضِ إِذَا عَرِقَتْ فِي ثِيَابِهَا"فَإِنَّهُ يُجْزِئُهَا أَنْ تَنْضَحَهُ بِالْمَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے مروی ہے: حائضہ کو کپڑے میں پسینہ آئے تو اس پر پانی کے چھینٹے مارنا کافی ہو گا۔
حدیث نمبر: 1066
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ كَانَ "يَعْرَقُ فِي الثَّوْبِ وَهُوَ جُنُبٌ، ثُمَّ يُصَلِّي فِيهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
نافع رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو حالت جنابت میں کپڑے میں پسینہ آتا، پھر وہ اسی کپڑے میں نماز پڑھ لیتے تھے۔
حدیث نمبر: 1067
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ هِشَامٍ هُوَ ابْنُ حَسَّانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ "لَمْ يَكُنْ يَرَى بَأْسًا بِعَرَقِ الْحَائِضِ وَالْجُنُبِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عکرمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما حائضہ اور جنبی کے پسینے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 1058 سے 1067)
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ حیض اور جنابت کی حالت میں کپڑوں میں اگر پسینہ لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لہٰذا ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ انہیں دھونے کی ضرورت ہے، ہاں منی یا اور کوئی نجاست کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ یا کپڑے کو دھو لینا چاہے۔
واللہ علم۔
ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ حیض اور جنابت کی حالت میں کپڑوں میں اگر پسینہ لگ جائے تو کپڑے ناپاک نہیں ہوتے، لہٰذا ان کپڑوں میں نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، نہ انہیں دھونے کی ضرورت ہے، ہاں منی یا اور کوئی نجاست کپڑے پر لگ جائے تو اس جگہ یا کپڑے کو دھو لینا چاہے۔
واللہ علم۔