کتب حدیثسنن دارميابوابباب: حائضہ عورت کا طہارت کے بعد حیض کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 991
أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي سَهْلٍ الْبَصْرِيِّ، عَنْ مُسَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، قَالَتْ: "كَانَتْ النُّفَسَاءُ"تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَكَانَتْ إِحْدَانَا تَطْلِي الْوَرْسَ عَلَى وَجْهِهَا مِنْ الْكَلَفِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نفاس والی عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں چالیس دن یا چالیس رات بیٹھ رہتیں اور ہم میں سے کوئی اپنے چہرے کی جھائیوں پر ورس مل لیتی تھی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 990)
سنن دارمی کے مطبوعہ نسخوں میں عنوان یہی ہے کہ حائضہ عورت کا طہارت کے بعد .... لیکن روایات سب مدتِ نفاس سے تعلق رکھتی ہیں اور یہ باب آگے (105) نمبر پر آ رہا ہے۔
ورس: زرد رنگ کی خوشبودار نبات ہے جو یمن میں پائی جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 991
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 995]» ¤ اس روایت کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [أحمد 303/6] ، [أبوداؤد 311] ، [ترمذي 139] ، [ابن ماجه 648] ، [دارقطني 222/1] ، [مصنف ابن أبى شيبه 368/4] ، [البيهقي فى المعرفة 2281] و [المستدرك 175/1]
حدیث نمبر: 992
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ جَلْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ: أَنَّ امْرَأَةً لِعَائِذِ بْنِ عَمْرٍو نُفِسَتْ فَجَاءَتْ بَعْدَمَا مَضَتْ عِشْرُونَ لَيْلَةً فَدَخَلَتْ فِي لِحَافِهِ، فَقَالَ: مَنْ هَذِهِ ؟، قَالَتْ: أَنَا فُلَانَةُ، إِنِّي قَدْ تَطَهَّرْتُ فَرَكَضَهَا بِرِجْلِهِ، فَقَالَ: "لَا تُغَرِّنِي عَنْ دِينِي حَتَّى تَمْضِيَ أَرْبَعُونَ لَيْلَةً".
محمد الیاس بن عبدالقادر
معاویہ بن قرۃ سے مروی ہے عائذ بن عمرو کی بیوی نے روایت کیا کہ وہ نفاس کی حالت میں بیس دن گزرنے کے بعد آئیں اور اپنے شوہر کے لحاف میں گھس گئیں، عائد نے کہا یہ کون ہے؟ کہا: میں آپ کی بیوی ہوں، پاک ہو گئی ہوں، تو انہوں نے پیر سے بیوی کو ٹھوکر ماری اور کہا: میرے دین میں مجھے دھوکہ نہ دو، یہاں تک کہ چالیس دن گزار لو۔ دارقطنی اور مصنف میں ہے کہ وہ نہا کر ان کے پاس آئی تھیں۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 992
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا، [مكتبه الشامله نمبر: 996]» ¤ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 368/6] و [دارقطني 222/1]
حدیث نمبر: 993
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نفاس والی عورتیں تقریباً چالیس دن بیٹھیں گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 993
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 997]» ¤ اس اثر کی سند صحیح ہے۔ (990) میں گذر چکی ہے۔
حدیث نمبر: 994
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ مَاهَكَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، قَالَ: "النُّفَسَاءُ تَنْتَظِرُ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ يَوْمًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: نفاس والی عورتیں چالیس دن انتظار کریں گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 994
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني:
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «، [مكتبه الشامله نمبر: 998]» ¤ اس اثر کی سند حسبِ سابق ہے۔
حدیث نمبر: 995
أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ الْحَسَنَ، قَالَ فِي النُّفَسَاءِ الَّتِي تَرَى الدَّمَ: "تَرَبَّصُ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ تُصَلِّي"، وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: "شَهْرَيْنِ ثُمَّ هِيَ بِمَنْزِلَةِ الْمُسْتَحَاضَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
معتمر بن سلیمان نے اپنے والد سے روایت کیا کہ امام حسن بصری رحمہ اللہ نے نفساء کے بارے میں فرمایا: اگر وہ خون دیکھیں تو چالیس دن تک انتظار کریں، پھر نماز پڑھیں۔ راوی نے کہا: اور امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: دو مہینے تک انتظار کرے گی، پھر وہ مستحاضہ کے حکم میں ہو گی۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 995
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: أثران بإسناد واحد وهو أسناد جيد
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «أثران بإسناد واحد وهو أسناد جيد، [مكتبه الشامله نمبر: 999]» ¤ اس قول کی سند جید ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 367/4 -368]
حدیث نمبر: 996
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَفْطَسُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَلَاءَ بْنَ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، قَالَ: "الْمَرْأَةُ تَنْتَظِرُ مِنْ الْغُلَامِ ثَلَاثِينَ يَوْمًا، وَمِنْ الْجَارِيَةِ أَرْبَعِينَ يَوْمًا"، يَعْنِي: النُّفَسَاءَ، قَالَ مَرْوَانُ: هُوَ قَوْلُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وقَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: هُمَا سَوَاءٌ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
مکحول نے کہا: نفاس والی عورت لڑکے کی ولادت پر 30 تیس دن اور لڑکی پر چالیس دن انتظار کریں گی۔ مروان نے کہا: سعید بن عبدالعزیز کا بھی یہی قول ہے۔ امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: لڑکا لڑکی دونوں برابر ہیں (یعنی چالیس دن مدت نفاس ہے، ان ایام میں وہ حائضہ عورت کے حکم میں ہو گی)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 996
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1000]» ¤ اس قول کی سند صحیح ہے۔ کہیں اور یہ روایت نہ مل سکی۔
حدیث نمبر: 997
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "إِذَا رَأَتْ الدَّمَ عِنْدَ الطَّلْقِ يَوْمًا أَوْ يَوْمَيْنِ، فَهُوَ مِنْ النِّفَاسِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام حسن رحمہ اللہ نے کہا: درد زہ کے وقت ایک دو دن سے اگر خون دیکھے تو وہ نفاس کا خون ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 997
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 1001]» ¤ اس قول کی سند بھی صحیح ہے، لیکن کہیں اور یہ روایت نہ مل سکی۔
حدیث نمبر: 998
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ وَهِيَ تَطْلُقُ، قَالَ: "تَصْنَعُ مَا تَصْنَعُ الْمُسْتَحَاضَةُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے ایک حاملہ کے بارے میں مروی ہے، جس کو درد زہ کے وقت خون آئے تو وہ (حاملہ) وہی کرے گی جو مستحاضہ کرتی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 991 سے 998)
اس مسئلہ میں صحیح یہ ہے کہ چالیس دن نفاس کی اکثر مدت ہے، اس سے پہلے اگر عورت پاک ہو جائے تو شوہر کے لئے حلال ہوگی اور نماز پڑھے گی، اگر چالیس دن سے زیادہ نفاس کا خون جاری رہے تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہوگی، صفائی اور غسل کر کے نماز پڑھے گی اور شوہر کے پاس جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 998
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن جريج
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه عنعنة ابن جريج، [مكتبه الشامله نمبر: 1002]» ¤ اس قول کی سند ضعیف ہے، لیکن مصنف عبدالرزاق میں صحیح سند سے مروی ہے۔ دیکھئے: [مصنف عبدالرزاق 1212] و [مصنف ابن أبى شيبه 213/2]