کتب حدیثسنن دارميابوابباب: منی کے نکلنے پر غسل واجب ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 781
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سُعَادٍ وَكَانَ مَرْضِيًّا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پانی سے ہے۔“
وضاحت:
(تشریح حدیث 780)
یعنی غسل منی نکلنے پر واجب ہوتا ہے، اس حدیث کو علماء نے احتلام پر محمول کیا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 781
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ليس بذاك ولكن الحديث صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ليس بذاك ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 785]» ¤ اس حدیث کی سند میں کلام ہے، لیکن حدیث صحیح ہے۔ دیکھئے: [صحيح ابن حبان 1173] ، [موارد الظمآن 228]
حدیث نمبر: 782
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَمِعَ مِنْهُ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهً، أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتَوْنَ بِهَا فِي قَوْلِهِ: "الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ"، رُخْصَةٌ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"رَخَّصَ فِيهَا فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ"، قَالَ عَبْد اللَّهِ: وقَالَ غَيْرُهُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: حَدَّثَنِي بَعْضُ مَنْ أَرْضَى عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ.
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ جنہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، سنا، اور جس وقت آپ کا انتقال ہوا، سہل کی عمر ۱۵ سال کی تھی، انہوں نے روایت کیا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ پانی سے پانی ہے کا فتویٰ جو لوگ دیا کرتے تھے، تو یہ آسانی تھی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابتدائے اسلام میں عطا فرمائی تھی، لیکن پھر بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کرنے کا حکم دیا۔ امام دارمی رحمہ اللہ نے کہا: دوسرے راوی نے کہا: امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: جس کو میں پسند کرتا ہوں، اس نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مجھے یہ حدیث بیان کی۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 781)
یعنی: اوّل اسلام میں یہ اجازت تھی کہ جماع کے بعد اگر انزال نہ ہو، پانی نہ نکلے تو غسل واجب نہیں ہوتا، لیکن بعد میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ منی نکلے یا نہ نکلے ایلاج سے غسل واجب ہے، جیسا کہ آگے حدیث میں آتا ہے۔
لہٰذا حدیث «الماء من الماء» منسوخ ہے، لیکن بعض علماء نے اسے احتلام پر محمول کیا ہے، کما ذُکر۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 782
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف ولكن الحديث صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 786]» ¤ یہ روایت اس سند سے ضعیف ہے، لیکن متن الحدیث صحیح ہے، اور حکم وہی ہے کہ احتلام کا اثر دیکھے تب غسل واجب ہو گا، اور جماع میں مجرد دخول سے غسل واجب ہو جائے گا۔ تخریج کے لئے دیکھئے: [أبوداود 214] ، [ترمذي 110] ، [نسائي 201] ، [صحيح ابن حبان 1179] ، [الناسخ والمنسوخ لابن شاهين 17] و [موارد الظمآن 228]
حدیث نمبر: 783
أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْجَمَّالُ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهً، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهً، أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يُفْتَوْنَ بِهَا "الْمَاءُ مِنْ الْمَاءِ كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ أَوْ الزَّمَانِ، ثُمَّ اغْتَسَلَ بَعْدُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ لوگ «الماء من الماء» کا جو فتویٰ دیتے ہیں، یہ رخصت تھی جو رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے اول اسلام میں مرحمت فرمائی تھی، پھر بعد میں آپ نے غسل کیا۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 782)
خلاصۂ کلام یہ کہ احتلام کی صورت میں اور جماع کرتے وقت صرف عضو مخصوص داخل کرنے سے ہی غسل واجب ہو جاتا ہے، جیسا کہ اگلے باب میں آرہا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 783
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
تخریج حدیث تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 787]» ¤ یہ حدیث و سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [أبوداود 215] ، [ترمذي 110] ، [ابن ماجه 609] ۔ نیز دیکھئے پچھلی حدیث کے حوالہ جات۔