حدیث نمبر: 776
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهً عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن میں اپنی سب بیویوں کے پاس چکر لگایا۔
حدیث نمبر: 777
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "طَافَ عَلَى نِسَائِهِ فِي لَيْلَةٍ وَاحِدَةٍ أَجْمَعَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام بیویوں کے پاس ایک رات میں چکر لگایا۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 775 سے 777)
پہلی روایت میں دن اور دوسری روایت میں رات کا ذکر ہے، اور مراد اس سے جماع کرنا ہے۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ ایک غسل میں چار بیویاں بھی اگر ہوں تو ان سے مباشرت کے بعد ایک بار غسل کافی ہے، واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت گیارہ بیویاں تھیں، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، دیکھئے: [بخاري 284]، لیکن دوسری بار یا دوسری بیوی سے جماع کرنے سے پہلے صفائی اور وضو کر لینا چاہئے کیونکہ اس سے نشاط اور ہوشیاری لوٹ آتی ہے۔
«كما فى الحديث» ۔
پہلی روایت میں دن اور دوسری روایت میں رات کا ذکر ہے، اور مراد اس سے جماع کرنا ہے۔
لہٰذا معلوم ہوا کہ ایک غسل میں چار بیویاں بھی اگر ہوں تو ان سے مباشرت کے بعد ایک بار غسل کافی ہے، واضح رہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس وقت گیارہ بیویاں تھیں، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے، دیکھئے: [بخاري 284]، لیکن دوسری بار یا دوسری بیوی سے جماع کرنے سے پہلے صفائی اور وضو کر لینا چاہئے کیونکہ اس سے نشاط اور ہوشیاری لوٹ آتی ہے۔
«كما فى الحديث» ۔