حدیث نمبر: 615
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، وَأَبِي مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث کا مذاکره کرو، اس لئے کہ حدیث سے حدیث یاد آتی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 611 سے 615)
مذاکرہ: گفتگو کرنے، یاد کرنے اور دہرانے کو کہتے ہیں۔
مذاکرہ: گفتگو کرنے، یاد کرنے اور دہرانے کو کہتے ہیں۔
حدیث نمبر: 616
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
دوسری سند سے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی مذکورہ بالا روایت۔
حدیث نمبر: 617
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْريَّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ الْحَدِيثَ يُهَيِّجُ الْحَدِيثَ" . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونضرة بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا: حدیث میں گفتگو کرو، کیونکہ ایک حدیث دوسری حدیث کو یاد دلاتی ہے۔
حدیث نمبر: 618
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَن أَبِي سَعِيدٍ . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابونضرة، سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں اور اس میں اس سے زیادہ کلام ہے۔
حدیث نمبر: 619
وَابْنِ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَن أَبِي سَعِيدٍ . .
وضاحت:
(تشریح احادیث 615 سے 619)
یہ تمام روایات سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔
معنی اوپر ذکر کیا جا چکا ہے، اور اس میں حدیث یاد کرنے اور دہراتے رہنے کی ترغیب ہے۔
یہ تمام روایات سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں۔
معنی اوپر ذکر کیا جا چکا ہے، اور اس میں حدیث یاد کرنے اور دہراتے رہنے کی ترغیب ہے۔
حدیث نمبر: 620
أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ يُعْنِي، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَن أَبي سَعيدٍ، وَفِيهِ كَلَامٌ أَكْثَرُ مِنْ هَذَا . .
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوسلمۃ ابونضرة کے طریق سے سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ سے یہی قول روایت کرتے ہیں، اس میں اُس سے زیادہ کلام ہے۔
وضاحت:
(تشریح حدیث 619)
یہ روایت بھی بالکل مذکور بالا الفاظ میں مروی ہے اور اس میں کچھ زیادہ کلام ہے۔
اور اس کی بھی سند صحیح ہے۔
یہ روایت بھی بالکل مذکور بالا الفاظ میں مروی ہے اور اس میں کچھ زیادہ کلام ہے۔
اور اس کی بھی سند صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 621
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ لِي طَاوُسٌ: "اذْهَبْ بِنَا نُجَالِسْ النَّاسَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عمرو بن مسلم سے مروی ہے کہ امام طاؤوس رحمہ اللہ نے مجھ سے کہا: ہمیں لے چلو لوگوں کے پاس بیٹھیں گے (یعنی مذاکرہ حدیث کے لئے)۔
حدیث نمبر: 622
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبَانَ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقُمِّيُّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ لَا يَنْفَلِتْ مِنْكُمْ، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِثْلَ الْقُرْآنِ مَجْمُوعٌ مَحْفُوظٌ، وَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ يَنْفَلِتْ مِنْكُمْ، وَلَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ حَدَّثْتُ أَمْسِ فَلَا أُحَدِّثُ الْيَوْمَ، بَلْ حَدِّثْ أَمْسِ، وَلْتُحَدِّثْ الْيَوْمَ، وَلْتُحَدِّثْ غَدًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حدیث دہرا لیا کرو تاکہ تم بھول نہ جاؤ، کیونکہ حدیث قرآن کی طرح مجموع و محفوظ نہیں ہے، اگر تم اس کا مذاکرہ نہیں کرو گے تو بھول جاؤ گے۔ نیز تم میں سے کوئی یہ نہ کہے کہ میں نے کل تو حدیث بیان کی ہے لہٰذا آج بیان نہیں کروں، بلکہ گزشتہ كل حدیث بیان کی ہو تو آج بھی بیان کرو اور آنے والے کل بھی بیان کرو۔
حدیث نمبر: 623
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنِي جَعْفَرُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "رُدُّوا الْحَدِيثَ وَاسْتَذْكِرُوهُ، فَإِنَّهُ إِنْ لَمْ تَذْكُرُوهُ، ذَهَبَ، وَلَا يَقُولَنَّ رَجُلٌ لِحَدِيثٍ قَدْ حَدَّثَهُ قَدْ حَدَّثْتُهُ مَرَّةً، فَإِنَّهُ مَنْ كَانَ سَمِعَهُ يَزْدَادُ بِهِ عِلْمًا، وَيَسْمَعُ مَنْ لَمْ يَسْمَعْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے ہی مروی ہے ، سیدنا عبدالله بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: حدیث کو دہراؤ اور یاد کرو، اگر یاد نہ کرو گے تو بھول جاؤ گے، اور کوئی آدمی کسی حدیث کو بیان کرنے کے بعد یہ نہ کہے کہ میں نے ایک بار بیان کر دی، کیونکہ جس نے پہلے حدیث سنی اس کے علم میں اضافہ ہو گا اور جس نے نہیں سنی وہ اب سن لے گا۔
حدیث نمبر: 624
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: "تَذَاكَرُوا، فَإِنَّ إِحْيَاءَ الْحَدِيثِ مُذَاكَرَتُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
یزید بن ابی زیاد سے مروی ہے عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے کہا: مذاکرہ کرو، حدیث کو زندہ رکھنے کا طریقہ اس کا دہرانا و مذاکرہ کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 625
أَخْبَرَنَا قَبِيصَةُ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ ذِكْرَهُ حَيَاتُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم سے مروی ہے علقمہ نے کہا: حدیث کا مذاکره کرو، اس کا یاد کرنا ہی اس کی زندگی ہے۔
حدیث نمبر: 626
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: "كَانَ ابْنُ شِهَابٍ يُحَدِّثُ الْأَعْرَابَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان بن عیینہ سے مروی ہے زیاد بن سعد نے کہا: ابن شہاب الزہری دیہاتیوں کو بھی حدیث سنایا کرتے تھے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 620 سے 626)
یہ بھی مذاکرۂ حدیث کا ایک طریقہ ہے۔
یہ بھی مذاکرۂ حدیث کا ایک طریقہ ہے۔
حدیث نمبر: 627
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "كَانَ إِسْمَاعِيل بْنُ رَجَاءٍ يَجْمَعُ صِبْيَانَ الْكُتَّابِ يُحَدِّثُهُمْ يَتَحَفَّظُ بِذَاكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش (سلیمان بن مہران) نے کہا: اسماعیل بن رجاء منشیوں کے بچوں کو جمع کر کے انہیں حدیث سنایا کرتے تھے، وہ اسی طرح یاد کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 628
أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "حَدِّثْ حَدِيثَكَ مَنْ يَشْتَهِيهِ، وَمَنْ لَا يَشْتَهِيهِ، فَإِنَّهُ يَصِيرُ عِنْدَكَ كَأَنَّهُ إِمَامٌ تَقْرَؤُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوعبدالله الشقری سے مروی ہے ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: اپنی حدیث ہر کسی کو سناؤ چاہے وہ اس کو سننے کی خواہش رکھے یا نہ رکھے، اس لئے کہ وہی تمہارے لئے اصل ہو جائیں گے گو کہ تم اصل کو دیکھ کر پڑھ رہے ہو۔
حدیث نمبر: 629
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا سَمِعْتُمْ مِنَّا حَدِيثًا، فَتَذَاكَرُوهُ بَيْنَكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء (ابن ابی رباح) سے مروی ہے: سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم ہم سے کوئی حدیث سنو تو آپس میں اس کا مذاکرہ کر لیا کرو۔
حدیث نمبر: 630
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي الْحَسَنَ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ، تَذَاكَرْنَا بَيْنَنَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ہشیم نے کہا: یونس بن عبید نے خبر دی کہ ہم حسن رحمہ اللہ کے پاس جاتے تھے اور جب ان کے پاس سے لوٹتے تو آپس میں مذاکرہ کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 631
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حُنَيْنِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِذَا أَرَادَ أَحَدُكُمْ أَنْ يَرْوِيَ حَدِيثًا، فَلْيُرَدِّدْهُ ثَلَاثًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی حدیث بیان کرنا چاہے تو اس حدیث کو تین بار دہرا لے۔
حدیث نمبر: 632
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: "إِحْيَاءُ الْحَدِيثِ مُذَاكَرَتُهُ"، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَدَّادٍ: "يَرْحَمُكَ اللَّهُ، كَمْ مِنْ حَدِيثٍ أَحْيَيْتَهُ فِي صَدْرِي كَانَ قَدْ مَاتَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عبدالرحمٰن بن ابی لیلی نے کہا: حدیث کو زندہ رکھنے کا طریقہ اس کا مذاکرہ کرنا ہے، عبداللہ بن شداد نے ان سے کہا: اللہ آپ پر رحم فرمائے، کتنی احادیث ہیں جو مٹ گئی تھیں، آپ نے انہیں میرے دل میں زندہ کر دیا۔
حدیث نمبر: 633
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "كَانَ الْحَارِثُ بْنُ يَزِيدَ الْعُكْلِيُّ، وَابْنُ شُبْرُمَةَ، وَالْقَعْقَاعُ بْنُ يَزِيدَ، وَمُغِيرَةُ إِذَا صَلَّوْا الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، جَلَسُوا فِي الْفِقْهِ، فَلَمْ يُفَرِّقْ بَيْنَهُمْ إِلَّا أَذَانُ الصُّبْحِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن فضیل نے بیان کیا، ان کے والد نے کہا: حارث بن یزید عکلی، ابن شبرمہ اور قعقاع بن یزید و مغیرہ جب عشاء کی نماز پڑھ لیتے، فقہ (کے مذاکرے) میں بیٹھ جاتے، اور پھر صبح کی اذان ہی انہیں جدا کرتی۔
حدیث نمبر: 634
أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، قَالَ: سَمِعْتُ شَرِيكًا ذَكَرَ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَطَاوُسٍ، وَمُجَاهِدٍ، قَالَ: عَنْ اثْنَيْنِ مِنْهُمْ "لَا بَأْسَ بِالسَّمَرِ فِي الْفِقْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مالک بن اسماعیل نے خبر دی کہ میں نے شریک کو کہتے سنا، انہوں نے لیث کے طریق سے کہا، عطاء و طاؤوس و مجاہد میں سے دو نے کہا: فقہی امور میں رات جاگنے میں کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 635
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "لَا بَأْسَ بِالسَّمَرِ فِي الْفِقْهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
لیث سے مروی ہے مجاہد نے کہا: فقہی مذاکرہ میں جاگنے سے کوئی حرج نہیں۔
حدیث نمبر: 636
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا حَفْصٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "تَدَارُسُ الْعِلْمِ سَاعَةً مِنْ اللَّيْلِ، خَيْرٌ مِنْ إِحْيَائِهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن جریج سے مروی ہے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ایک گھڑی مل جل کر پڑھنا پوری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔
حدیث نمبر: 637
أَخْبَرَنَا أَبُو مَعْمَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، عَنْ هُشَيْمٍ، أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "كُنَّا نَأْتِي جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِهِ تَذَاكَرْنَا، فَكَانَ أَبُو الزُّبَيْرِ أَحْفَظَنَا لِحَدِيثِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء نے کہا: ہم سیدنا جابر بن عبدالله رضی اللہ عنہما کے پاس جاتے تھے، اور جب ان کے پاس سے واپس آتے تو آپس میں مذاکرہ کرتے، نیز ابوالزبیر ہم میں سب سے زیادہ حافظ حدیث تھے۔
حدیث نمبر: 638
أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ اللَّيْثَ بْنَ سَعْدٍ، يَقُولُ: "تَذَاكَرَ ابْنُ شِهَابٍ لَيْلَةً بَعْدَ الْعِشَاءِ حَدِيثًا وَهُوَ جَالِسٌ مُتَوَضِّئًا، قَالَ: فَمَا زَالَ ذَلِكَ مَجْلِسَهُ حَتَّى أَصْبَحَ"، قَالَ مَرْوَانُ: "جَعَلَ يَتَذَاكَرُ الْحَدِيثَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
مروان بن محمد نے خبر دی کہ میں نے لیث بن سعد سے سنا، انہوں نے کہا: ابن شہاب (زہری) ایک رات عشاء کے بعد بیٹھے وضو کر رہے تھے کہ حدیث یاد کرنے لگے، پھر بیٹھے یاد ہی کرتے رہے یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ مروان نے کہا: حدیث کا مذاکرہ کرتے رہے۔
حدیث نمبر: 639
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "كُنْتُ إِذَا لَقِيتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَكَأَنَّمَا أَفْجُرُ بِهِ بَحْرًا".
محمد الیاس بن عبدالقادر
محمد بن اسحاق سے مروی ہے، زہری نے کہا: میں جب عبیداللہ بن عتبہ سے ملاقات کرتا تو ایسا لگتا کہ گویا میں نے سمندر کو چیر دیا ہے۔
حدیث نمبر: 640
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "كَانَ الْحَارِثُ الْعُكْلِيُّ وَأَصْحَابُهُ يَتَجَالَسُونَ بِاللَّيْلِ، وَيَذْكُرُونَ الْفِقْهَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عثمان بن عبداللہ نے کہا: حارث عکلی اور ان کے ساتھی رات میں بیٹھ کر فقہی مسائل یاد کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 641
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، رَوَى عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، فَإِنَّ حَيَاتَهُ مُذَاكَرَتُهُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوالأحوص سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث یاد کرو، کیونکہ اس کی زندگی اس کا یاد کرنا یا مذاکرہ کرنا ہے۔
حدیث نمبر: 642
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ: هَلْ تَجَالَسُونَ ؟، قَالُوا: لَيْسَ نُتْرَكُ ذَاكَ، قَالَ: فَهَلْ تَزَاوَرُونَ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ، فَيَمْشِي فِي طَلَبِهِ إِلَى أَقْصَى الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ، قَالَ: "فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
عون بن عبداللہ سے مروی ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ان کے پاس آئے تو انہوں نے ان سے کہا: کیا تم مجلس جماتے ہو؟ جواب دیا: اسے تو ہم چھوڑتے ہی نہیں، فرمایا: کیا تم ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہو؟ جواب دیا: جی ہاں اے ابوعبدالرحمٰن! ہم میں سے کوئی شخص اگر اپنے ساتھی کو نہ دیکھے تو کوفے کے آخری کنارے تک اس کو دیکھنے جاتا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم جب تک ایسا کرتے رہو گے خیر سے رہو گے۔
حدیث نمبر: 643
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَتَرْكُ الْمُذَاكَرَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
امام اوزاعی رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی آفت نسیان اور ترک مذاکرہ ہے۔
حدیث نمبر: 644
أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أَنْبَأَنَا أَبُو عُمَيْسٍ، عَنْ الْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "آفَةُ الْحَدِيثِ النِّسْيَانُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
قاسم بن عبدالرحمٰن مسعودی سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حدیث کی آفت نسیان ہے (یعنی بھلا دینا)۔
حدیث نمبر: 645
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ طَارِقٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: "إِنَّ لِكُلِّ شَيْءٍ آفَةً، وَآفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
حکیم بن جابر سے مروی ہے، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ہر چیز کی ایک آفت ہوتی ہے، علم کی آفت نسیان ہے۔
حدیث نمبر: 646
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "آفَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ، وَإِضَاعَتُهُ أَنْ تُحَدِّثَ بِهِ غَيْرَ أَهْلِهِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
اعمش سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”علم کی آفت نسیان ہے، اور اس کا ضیاع یہ ہے کہ تم نااہل کو اس کی تعلیم دو۔“
حدیث نمبر: 647
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَنْبَأَنَا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "غَائِلَةُ الْعِلْمِ النِّسْيَانُ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوحمزه التمار سے مروی ہے، حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: علم کی برائی نسیان ہے۔
حدیث نمبر: 648
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا كَهْمَسٌ، عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ: "تَذَاكَرُوا هَذَا الْحَدِيثَ، وَتَزَاوَرُوا، فَإِنَّكُمْ إِنْ لَمْ تَفْعَلُوا يَدْرُسْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابن بريدة سے مروی ہے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس (علم) حدیث کو یاد کرو (دہراؤ)، ایک دوسرے کی زیارت کرو، اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو یہ (علم) مٹ جائے گا۔
حدیث نمبر: 649
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: "كُنْتُ أَحْسَبُ بِأَنِّي أَصَبْتُ مِنْ الْعِلْمِ، فَجَالَسْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ، فَكَأَنِّي كُنْتُ فِي شِعْبٍ مِنْ الشِّعَابِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سفیان رحمہ اللہ سے مروی ہے، امام زہری رحمہ اللہ نے فرمایا: میں سمجھتا تھا کہ میں نے علم کی تکمیل کر لی، لیکن جب عبیداللہ (بن عبدالله بن مسعود) کی مجالست اختیار کی تو لگا کہ میں تو علم کی بہت ساری گھاٹی یا وادیوں میں سے صرف ایک وادی میں تھا (یعنی ان کے مقابلہ میں میرا علم بہت تھوڑا تھا)۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 626 سے 649)
ان تمام آثار سے علماء کی قدر و منزلت، ان کی زیارت کی اہمیت و فضیلت، اور علمی مذاکرۂ احادیث و اصول یاد کرنے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ احادیث کا یاد کرنا دہرانا سمر میں داخل نہیں جس سے احادیث میں روکا گیا ہے اور علمی مذاکره رات بھر تہجد پڑھنے سے بہتر ہے۔
ان تمام آثار سے علماء کی قدر و منزلت، ان کی زیارت کی اہمیت و فضیلت، اور علمی مذاکرۂ احادیث و اصول یاد کرنے کی ضرورت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ احادیث کا یاد کرنا دہرانا سمر میں داخل نہیں جس سے احادیث میں روکا گیا ہے اور علمی مذاکره رات بھر تہجد پڑھنے سے بہتر ہے۔