کتب حدیثسنن دارميابوابباب: لوگوں کو اکتا دینے سے ناپسندیدگی کا بیان
حدیث نمبر: 461
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "لَا تُمِلُّوا النَّاسَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبدالله بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں کو زچ نہ کرو۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 461
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 461]
تخریج حدیث اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 99] و [الجامع لأخلاق الراوي 1422]
حدیث نمبر: 462
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا أَشْعَثُ، عَنْ كُرْدُوسٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَ: "إِنَّ لِلْقُلُوبِ لَنَشَاطًا وَإِقْبَالًا، وَإِنَّ لَهَا تَوْلِيَةً وَإِدْبَارًا، فَحَدِّثُوا النَّاسَ مَا أَقْبَلُوا عَلَيْكُمْ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگوں پر سرور و چاہت بھی طاری ہوتی ہے، اور بےکیفی و خمول بھی، سو تم لوگوں سے اس وقت حدیث بیان کرو جب وہ تمہاری طرف متوجہ ہوں (یعنی چاہت و نشاط میں ہوں)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 462
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): ، [مكتبه الشامله نمبر: 462]
تخریج حدیث اس اثر کی سند ضعیف ہے۔ حوالہ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 750] ، [مصنف ابن أبى شيبه 69/9] ، أبونعیم نے [حلية الأولياء 134/1] میں دوسری سند سے اس کو روایت کیا ہے جس کے رواة ثقات ہیں لیکن اس میں اعضال ہے۔
حدیث نمبر: 463
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا أَبُو هِلَالٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: كَانَ يُقَالُ: "حَدِّثْ الْقَوْمَ مَا أَقْبَلُوا عَلَيْكَ بِوُجُوهِهِمْ، فَإِذَا الْتَفَتُوا، فَاعْلَمْ أَنَّ لَهُمْ حَاجَاتٍ".
محمد الیاس بن عبدالقادر
ابوہلال الراسی نے کہا: میں نے امام حسن بصری رحمہ اللہ کو کہتے سنا: یہ کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو اس وقت حدیث سناؤ جب وہ تمہاری طرف (چاہت سے) متوجہ ہوں، اور اگر ادھر ادھر التفات کریں تو سمجھ لو کہ ان کی کچھ ضروریات ہیں (یعنی سماع حدیث کے لئے یک سو نہیں)۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 463
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده إلى الحسن حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 463]
تخریج حدیث حسن بصری رحمہ اللہ تک یہ سند حسن ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 69/9]