سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب في الْمَرْأَةِ الْحَائِضِ تُصَلِّي في يَوْمِهَا إِذَا طَهُرَتْ: باب: حائضہ عورت کا طہارت کے بعد حیض کے کپڑوں میں نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 998
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ فِي الْحَامِلِ تَرَى الدَّمَ وَهِيَ تَطْلُقُ، قَالَ: "تَصْنَعُ مَا تَصْنَعُ الْمُسْتَحَاضَةُ".محمد الیاس بن عبدالقادر
عطاء رحمہ اللہ سے ایک حاملہ کے بارے میں مروی ہے، جس کو درد زہ کے وقت خون آئے تو وہ (حاملہ) وہی کرے گی جو مستحاضہ کرتی ہے۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 991 سے 998)
اس مسئلہ میں صحیح یہ ہے کہ چالیس دن نفاس کی اکثر مدت ہے، اس سے پہلے اگر عورت پاک ہو جائے تو شوہر کے لئے حلال ہوگی اور نماز پڑھے گی، اگر چالیس دن سے زیادہ نفاس کا خون جاری رہے تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہوگی، صفائی اور غسل کر کے نماز پڑھے گی اور شوہر کے پاس جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔
اس مسئلہ میں صحیح یہ ہے کہ چالیس دن نفاس کی اکثر مدت ہے، اس سے پہلے اگر عورت پاک ہو جائے تو شوہر کے لئے حلال ہوگی اور نماز پڑھے گی، اگر چالیس دن سے زیادہ نفاس کا خون جاری رہے تو وہ مستحاضہ کے حکم میں ہوگی، صفائی اور غسل کر کے نماز پڑھے گی اور شوہر کے پاس جا سکتی ہے۔
واللہ اعلم۔