حدیث نمبر: 99
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ حَسَّانَ، قَالَ: "مَا ابْتَدَعَ قَوْمٌ بِدْعَةً فِي دِينِهِمْ إِلَّا نَزَعَ اللَّهُ مِنْ سُنَّتِهِمْ مِثْلَهَا، ثُمَّ لَا يُعِيدُهَا إِلَيْهِمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

حسان بن عطيہ نے کہا: جس قوم نے بھی اپنے دین میں بدعت ایجاد کی اللہ تعالی ان سے اسی کے مثل سنت اٹھا لیتا ہے، پھر وہ سنت اللہ تعالی قیامت تک واپس نہیں لائے گا۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 96 سے 99)
یہ تمام روایات جو گرچہ ائمہ کرام کے اقوال ہیں، لیکن ان سے سنّت کی فضیلت، تمسک بالسنۃ کی اہمیت ثابت ہوتی ہے، نیز یہ کہ ایک بدعت ایجاد ہوتی ہے تو اسی طرح کی ایک سنّت معدوم ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 99
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 99]
تخریج حدیث اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [حلية الأولياء 73/6] ، [المعرفة 386/3] ، [شرح اعتقاد أهل السنة 129] ، [الإبانة لابن بطه 328] لیکن یہ موقوف روایت ہے۔