حدیث نمبر: 951
قُلْتُ: وَكَيْفَ إِنْ كَانَ طَلَّقَ وَهِيَ تَحِيضُ فِي كُلِّ سَنَةٍ مَرَّةً كَمْ تَعْتَدُّ؟، قَالَ: "إِنْ كَانَتْ تَحِيضُ أَقْرَاؤُهَا مَعْلُومَةٌ هِيَ أَقْرَاؤُهَا، فَإِنَّا نُرَى أَنْ تَعْتَدَّ أَقْرَاءَهَا".
محمد الیاس بن عبدالقادر

امام اوزاعی رحمہ اللہ نے کہا: اگر طلاق ہو جائے اور ہر سال میں ایک بار حیض آئے، تب عدت کتنی ہو گی ؟ فرمایا: اگر اس کو وقت مقررہ پر حیض اور طہر ہوتا تھا، تو ہماری رائے میں وہ مدت حیض کی عدت گزارے گی۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 951
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): ، [مكتبه الشامله نمبر: 955]
تخریج حدیث اس قول کی سند مثل سابق اور جید ہے۔