حدیث نمبر: 950
قَالَ: وَسَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ تَحِيضُ، تَمْكُثُ ثَلَاثَةَ أَشْهُرٍ، ثُمَّ تَحِيضُ حَيْضَةً، ثُمَّ يَتَأَخَّرُ عَنْهَا الْحَيْضُ، ثُمَّ تَمْكُثُ السَّبْعَةَ الْأَشْهُرَ وَالثَّمَانِيَةَ، ثُمَّ تَحِيضُ أُخْرَى تَسْتَعْجِلُ إِلَيْهَا مَرَّةً وَتَسْتَأْخِرُ أُخْرَى، كَيْفَ تَعْتَدُّ؟، قَالَ: "إِذَا اخْتَلَفَتْ حِيضَتُهَا عَنْ أَقْرَائِهَا فَعِدَّتُهَا سَنَةٌ". .
محمد الیاس بن عبدالقادر

نیز فرمایا: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے یہ بھی پوچھا: ایک آدمی نے اپنی عورت کو طلاق دے دی جسے حیض آتا تھا، وہ تین مہینے تک رکی رہی (یعنی حیض نہ آیا) پر ایک بار حیض آ گیا، پھر (ایک بار آ کر) حیض رک گیا اور سات آٹھ مہینے تک وہ بیٹھی رہی (حیض نہ آیا)، پھر دوسری بار حیض آ گیا، پہلی بار جلدی آ گیا، دوسری بار بہت دیر سے حیض آیا، تو وہ عدت کیسے گزارے گی؟ فرمایا: اس کا حیض وقت مقررہ میں الٹ پلٹ کر آیا تو اس کی ایک سال کی عدت ہو گی۔

حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 950
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): ، [مكتبه الشامله نمبر: ]
تخریج حدیث اس قول کی سند جید ہے۔ «و انفرد به الدارمي»۔