سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب مَا أَكْرَمَ اللَّهُ تَعَالَى نَبِيَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ مَوْتِهِ: باب: وفات کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تکریم کا بیان
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي خَالِدٌ هُوَ ابْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ نُبَيْهِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ كَعْبًا دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ، فَذَكَرُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ كَعْبٌ: "مَا مِنْ يَوْمٍ يَطْلُعُ إِلَّا نَزَلَ سَبْعُونَ أَلْفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ، حَتَّى يَحُفُّوا بِقَبْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْرِبُونَ بِأَجْنِحَتِهِمْ، وَيُصَلُّونَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا أَمْسَوْا، عَرَجُوا وَهَبَطَ مِثْلُهُمْ، فَصَنَعُوا مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى إِذَا انْشَقَّتْ عَنْهُ الْأَرْضُ، خَرَجَ فِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ الْمَلَائِكَةِ يَزِفُّونَهُ".نبیہ بن وھب سے مروی ہے کہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر چل نکلا تو سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہر دن ستر ہزار فرشتے اترتے ہیں اور اپنے پروں سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو ڈھانپ لیتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام پڑھتے رہتے ہیں، پھر جب شام ہو جاتی ہے تو وہ (آسمان پر) چڑھ جاتے ہیں اور انہیں کی طرح دوسرے فرشتے آتے ہیں اور درود پڑھتے ہیں حتی کہ زمین شق ہو گی اور آپ ستر ہزار فرشتوں کو ہٹاتے ہوئے قبر سے نمودار ہوں گے۔
یہ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کا قول ہے، جو نہ مرفوع ہے اور نہ صحیح، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت کے لئے احادیثِ صحیحہ کا ذخیرہ موجود ہے، مثلاً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سید الانبیاء والمرسلین ہونا، تمام نبیوں کی امامت کرنا، وغیرہ وغیرہ۔