حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْجَلِيلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَائِمًا عِنْدَ رَبِّكَ وَأَنْتَ مُحْمَارَّةٌ وَجْنَتَاكَ مُسْتَحْيٍ مِنْ رَبِّكَ مِمَّا أَحْدَثَتْ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے پیغمبر! ہم قیامت کے دن آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بوجھل سرخ پلکوں کے ساتھ رب سے شرمسار کھڑا پائیں گے ان افعال کی وجہ سے جو آپ کے بعد آپ کی امت ایجاد کر لے گی۔

وضاحت:
(تشریح حدیث 89)
اس روایت سے معلوم ہوا: بدعت کے ایجاد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رب کے حضور شرمسار ہوں گے۔
نیک آدمی کی فراست۔
اثباتِ یوم القیامہ اور رب کے سامنے حاضری کا اس سے ثبوت ملتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / مقدمه / حدیث: 90
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة أبي عبد الجليل وهو موقوف على عبد الله بن سلام وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 90]
تخریج حدیث اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن اس کا شاہد [مسند الموصلي 6502] میں موجود ہے۔