سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب الطُّهْرِ كَيْفَ هُوَ: باب: طہر (پاکی) سے مراد کیا ہے ؟
حدیث نمبر: 884
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا يَعْلَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ صَاحِبَتِهِ فَاطِمَةَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَتْ فِي حِجْرِ عَمْرَةَ، قَالَتْ: أَرْسَلَتْ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ إِلَى عَمْرَةَ بِكُرْسُفَةِ قُطْنٍ فِيهَا كَالصُّفْرَةِ تَسْأَلُهَا: هَلْ تَرَى إِذَا لَمْ تَرَ الْمَرْأَةُ مِنْ الْحِيضَةِ إِلَّا هَذَا أَنْ قَدْ طَهُرَتْ ؟ فَقَالَتْ: "لَا، حَتَّى تَرَى الْبَيَاضَ خَالِصًا".محمد الیاس بن عبدالقادر
فاطمہ بنت محمد (جو عمرة کی پروردہ تھیں) نے کہا کہ قریش کی ایک عورت نے روئی کا ایک ٹکڑا عمرة کے پاس بھیجا، جس پر زردی جیسی چیز لگی تھی اور پوچھا کہ عورت حیض کے وقت صرف اس طرح کی زردی دیکھے تو کیا وہ پاک ہو گئی ؟ عمره نے جواب دیا کہ نہیں، جب تک کہ روئی بالکل سفید نہ نکلے (یعنی وہ عورت پاک نہیں ہوئی)۔