سنن دارمي
مقدمه— مقدمہ
باب في وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: باب: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: يَا أَنَسُ "كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ ؟، وَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهْ، مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهْ، وَا أَبَتَاهْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ، وَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ، وَا أَبَتَاهْ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهْ، قَالَ حَمَّادٌ: حِينَ حَدَّثَ ثَابِتٌ بَكَى، وقَالَ ثَابِتٌ: حِينَ حَدَّثَ أَنَسٌ بَكَى".محمد الیاس بن عبدالقادر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دلوں نے کیسے گوارہ کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو، کہنے لگیں: اے ابا جان! آپ اپنے رب سے کتنے قریب ہیں، ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے، اے ابا جان! جبریل کو ہم آپ کی موت کی خبر دیتے ہیں، اے ابا جان! آپ نے اپنے رب کی دعوت قبول فرما لی۔ حماد نے کہا: جب ثابت نے یہ الفاظ بیان کئے، رو پڑے اور ثابت نے کہا: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا تو رو پڑے تھے۔