حدیث نمبر: 854
أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: "الْمُسْتَحَاضَةُ لَا تُجَامَعُ، وَلَا تَصُومُ، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ، إِنَّمَا رُخِّصَ لَهَا فِي الصَّلَاةِ"، قَالَ يَزِيدُ: "يُجَامِعُهَا زَوْجُهَا، وَيَحِلُّ لَهَا مَا يَحِلُّ لِلطَّاهِرِ".
محمد الیاس بن عبدالقادر

امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ کہا جاتا تھا کہ مستحاضہ سے جماع نہیں کیا جائے گا، نہ وہ روزے رکھے گی، نہ مصحف چھوئے گی، بس اس کو نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ یزید بن ہارون (اس کے راوی) نے کہا: اس کا شوہر اس سے ہم بستری بھی کرے گا اور اس (مستحاضہ) کے لئے ہر وہ چیز حلال ہے جو پاکی والی عورت کے لئے حلال ہے۔

وضاحت:
(تشریح احادیث 849 سے 854)
ان تمام آثار میں مستحاضہ سے جماع کی ممانعت اور نماز کے علاوہ اس کا حکم حائضہ کے حکم سے مشابہ ہے۔
لیکن یہ اقوال و آثار صحیح ہونے کے باوجود مرجوح اور اجتہادات ہیں، صحیح یہی ہے کہ مستحاضہ سے اس کا شوہر جماع کر سکتا ہے، وہ نماز بھی پڑھے گی، مصحف کو ہاتھ بھی لگا سکتی ہے اور پڑھ بھی سکتی ہے، جیسا کہ اس آخر اثر میں یزید بن ہارون نے کہا اور اس سے قبل والے باب میں اس کی تفصیل گذری ہے۔
حوالہ حدیث سنن دارمي / من كتاب الطهارة / حدیث: 854
درجۂ حدیث تحقیق (حسین سلیم أسد الدارانی): إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 858]
تخریج حدیث اس قول کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: اثر رقم (849)۔