سنن دارمي
من كتاب الطهارة— وضو اور طہارت کے مسائل
باب في غُسْلِ الْمُسْتَحَاضَةِ: باب: زائد حیض والی (مستحاضہ) عورت کے غسل کا بیان
حدیث نمبر: 826
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: "الْمُسْتَحَاضَةُ تَجْلِسُ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَتُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ وَتُعَجِّلُ الْعِشَاءَ وَذَلِكَ فِي وَقْتِ الْعِشَاءِ، وَلِلْفَجْرِ غُسْلًا وَاحِدًا، وَلَا تَصُومُ، وَلَا يَأْتِيهَا زَوْجُهَا، وَلَا تَمَسُّ الْمُصْحَفَ".محمد الیاس بن عبدالقادر
ابراہیم نے کہا: مستحاضہ مدت حیض میں بیٹھی رہے گی (یعنی نماز نہ پڑھے گی اور پاک ہو کر) ظہر عصر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، مغرب کو مؤخر کر کے عشاء کے اول وقت میں نماز پڑھے گی اور فجر کے لئے ایک مرتبہ غسل کرے گی، اور وہ نہ روزہ رکھے گی نہ شوہر کے ساتھ صحبت کرے گی اور نہ قرآن پاک کو ہاتھ لگائے گی۔
وضاحت:
(تشریح احادیث 818 سے 826)
روزہ رکھنا، نماز نہ پڑھنا، جماع سے پرہیز کرنا اور مصحف کو ہاتھ نہ لگانا یہ سب حائضہ کے احکام ہیں۔
روزہ رکھنا، نماز نہ پڑھنا، جماع سے پرہیز کرنا اور مصحف کو ہاتھ نہ لگانا یہ سب حائضہ کے احکام ہیں۔